ایرانتازہ ترین

جنگ ختم کرنے کی بات چیت، مگر ایران کو امریکی نیت پر شک برقرار

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں، تاہم ایرانی قیادت کو اب بھی واشنگٹن کے ارادوں پر مکمل اعتماد نہیں ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق تہران کو خدشہ ہے کہ مذاکرات ایک سنجیدہ عمل کے بجائے کسی ممکنہ حکمت عملی یا دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بھی ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نے ماضی کے تجربات کو بنیاد بنا کر امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ایک پیغام میں، جو مبینہ طور پر واشنگٹن تک پہنچایا گیا، ایران نے مؤقف اختیار کیا کہ پہلے بھی مذاکرات کے وعدے کیے گئے لیکن عملی طور پر اس کے بجائے کشیدگی اور تصادم دیکھنے میں آیا۔

اسی تناظر میں امریکا نے اپنے نائب صدر جے ڈی وینس کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل کر لیا ہے، تاکہ ایران کو یقین دلایا جا سکے کہ اس بار بات چیت سنجیدہ اور نتیجہ خیز بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوئی وقتی حربہ نہیں بلکہ ایک حقیقی سفارتی عمل ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ گفتگو میں کہا ہے کہ ایران کا رویہ اس وقت نسبتاً معتدل دکھائی دے رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کی گنجائش موجود ہے، اگرچہ انہوں نے اس حوالے سے کوئی حتمی یقین دہانی نہیں کرائی۔

رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کو ایک جامع 15 نکاتی تجویز پیش کی ہے، جس میں ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے، یورینیم افزودگی روکنے اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنے جیسے مطالبات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں ایران کی حمایت یافتہ گروپوں سے لاتعلقی اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی کی ضمانت بھی اس تجویز کا حصہ ہے۔

اس کے بدلے امریکا کی جانب سے ایران کو پابندیوں میں نرمی، اقوام متحدہ کی ممکنہ سخت کارروائیوں سے تحفظ اور معاشی بحالی کے مواقع دینے کی پیشکش کی گئی ہے، جو تہران کے لیے ایک بڑی ترغیب سمجھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب ایران نے بھی اپنی شرائط سامنے رکھی ہیں، جن میں جنگ کے نقصانات کا ازالہ، مستقبل میں حملوں سے تحفظ کی ضمانت، خلیجی خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی، اور لبنان میں حزب اللہ پر اسرائیلی حملوں کے خاتمے جیسے مطالبات شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں فریقین کے مؤقف میں اب بھی واضح فرق موجود ہے، جس کی وجہ سے فوری کسی بڑے معاہدے تک پہنچنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ تاہم سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ بڑھتی ہوئی جنگی تھکن اور معاشی دباؤ دونوں ممالک کو کسی نہ کسی سطح پر سمجھوتے کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

اس صورتحال میں مشرق وسطیٰ ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں سفارت کاری اور طاقت کے استعمال کے درمیان توازن برقرار رکھنا نہایت اہم ہو گیا ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، بصورت دیگر کشیدگی میں مزید اضافہ عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button