ایرانتازہ ترین

تہران کی نئی پالیسی: طویل جنگ کے ذریعے امریکا اور اسرائیل کو دباؤ میں لانے کی کوشش

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ):
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران Iran ایک ایسی حکمتِ عملی پر عمل کر رہا ہے جس کا مقصد براہِ راست عسکری برتری حاصل کرنے کے بجائے طویل اور تھکا دینے والی جنگ کے ذریعے اپنے مخالفین کو دباؤ میں لانا ہے۔ سفارتی اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تہران کا اندازہ ہے کہ اگر جنگ طویل ہوتی ہے اور عالمی توانائی کی منڈی متاثر ہوتی ہے تو United States اور Israel پر سیاسی اور معاشی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی حکمتِ عملی میں ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں کے ساتھ ساتھ خطے کی اہم توانائی گزرگاہوں پر دباؤ ڈالنا شامل ہے۔ اس طریقہ کار کا مقصد عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کرنا اور تیل و توانائی کی قیمتوں کو متاثر کرنا بتایا جا رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر اقتصادی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

دفاعی ذرائع کے مطابق ایران کی طاقتور فورس Islamic Revolutionary Guard Corps اس وقت جنگی حکمتِ عملی کی مرکزی قیادت کر رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ فورس مختلف محاذوں پر کارروائیوں کی نگرانی، اہداف کے تعین اور جنگی منصوبوں پر عمل درآمد میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

دوسری جانب ایرانی قیادت میں بھی اہم تبدیلیوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق ایران کے سابق سپریم لیڈر Ali Khamenei کی ہلاکت کے بعد ان کے بیٹے Mojtaba Khamenei کو نئی قیادت کے طور پر سامنے لانے میں پاسدارانِ انقلاب نے اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے ایران کی داخلی طاقت کے توازن پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق ایران کے پاس روایتی فوجی طاقت کے علاوہ ایک اور بڑا ہتھیار عالمی توانائی کی منڈی ہے۔ خلیج کی اہم سمندری گزرگاہیں، خاص طور پر Strait of Hormuz، عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہیں۔ اگر اس راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ یا خطرہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر عالمی تیل کی قیمتوں اور معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں خطہ ایک طویل اور پیچیدہ تنازع کی طرف بڑھ سکتا ہے جس میں عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ اقتصادی اور توانائی کے محاذ بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ عالمی طاقتیں اس بحران کو قریب سے دیکھ رہی ہیں کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button