
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ 35ویں دن میں داخل ہو چکی ہے، جہاں مسلسل فضائی حملوں اور جھڑپوں کے باوجود صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور خطے کے مختلف حصوں میں تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
CNN کے مطابق امریکی انٹیلی جنس جائزے میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران کے تقریباً نصف میزائل لانچرز اب بھی محفوظ ہیں، جبکہ اس کے پاس ہزاروں کی تعداد میں ڈرونز موجود ہیں۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ہفتوں کی بمباری کے باوجود ایران کی عسکری صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں کی جا سکی۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں کارروائی کے دوران 15 جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا، جو مبینہ طور پر اسرائیل کے خلاف حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اسی دوران اسرائیل میں مختلف مقامات پر ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ہزاروں افراد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سینکڑوں کو حالیہ دنوں میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ کئی افراد کی حالت تشویشناک بھی بتائی جا رہی ہے، جس سے انسانی بحران کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
لبنان، غزہ اور عراق سمیت خطے کے دیگر حصوں میں بھی اس تنازع کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں احتجاج، جھڑپیں اور سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ بغداد میں ایران کے حق میں ریلیاں نکالی گئیں، جبکہ غزہ میں بھی عوامی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔
اس کے علاوہ اسرائیل میں دو افراد پر ایران کے لیے مبینہ جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا ہے، جن پر حساس مقامات کی ویڈیوز بنانے اور معلومات فراہم کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق انہیں اس کام کے بدلے رقم بھی فراہم کی گئی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ کے اس مرحلے پر دونوں فریقین ایک دوسرے کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم مکمل برتری کسی کو حاصل نہیں ہو سکی۔ ایران کی باقی ماندہ میزائل اور ڈرون صلاحیت خطے کے لیے بدستور بڑا خطرہ سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یہ تنازع مزید طول پکڑ سکتا ہے اور اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں، خاص طور پر توانائی، معیشت اور سیکیورٹی کے شعبوں میں۔



