
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکی فوج نے ایران کے ایک بڑے بحری جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے ڈرون بردار جہاز “شہید باقری” پر حملہ کیا جس کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔
امریکی سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایک بیان میں کہا کہ جاری فوجی کارروائیوں کے دوران امریکی افواج نے ایرانی بحریہ کے متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق اس مہم کے دوران اب تک ایران کے 30 سے زائد بحری جہاز تباہ یا شدید نقصان کا شکار ہو چکے ہیں۔
امریکی فوج کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں بھی اس حملے کی جھلک دکھائی گئی ہے جس میں سمندر میں موجود ایک بڑے جہاز کو نشانہ بنتے دیکھا جا سکتا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ جہاز ایرانی ڈرون کیریئر تھا جو حجم کے اعتبار سے دوسری جنگِ عظیم کے دور کے طیارہ بردار جہازوں کے برابر سمجھا جاتا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق شہید باقری دراصل ایک تبدیل شدہ تجارتی جہاز تھا جسے جدید فوجی پلیٹ فارم میں تبدیل کیا گیا تھا۔ اس جہاز کی لمبائی تقریباً 240 میٹر بتائی جاتی ہے جبکہ اس کے ڈیک پر تقریباً 180 میٹر طویل رن وے موجود تھا جس سے ڈرون طیارے اڑان بھر سکتے تھے۔
رپورٹس کے مطابق یہ جہاز ایک وقت میں درجنوں ڈرونز لے جانے کی صلاحیت رکھتا تھا اور اسے جاسوسی، نگرانی اور حملہ آور مشنز کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس پر 60 تک ڈرونز تعینات کیے جا سکتے تھے۔
اس کے علاوہ جہاز پر ہیلی کاپٹرز، فضائی دفاعی نظام، اینٹی شپ میزائل اور تیز رفتار حملہ آور کشتیاں بھی موجود تھیں۔ یہ چھوٹی کشتیاں ایران کی بحری حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں اور انہیں بعض اوقات بارودی مواد سے بھر کر خودکش حملوں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ جہاز صرف حملہ آور پلیٹ فارم ہی نہیں بلکہ ایک متحرک بحری اڈے کے طور پر بھی کام کر سکتا تھا۔ اس میں انٹیلی جنس جمع کرنے کے نظام، الیکٹرانک وارفیئر آلات اور عملے کے لیے طبی سہولیات بھی موجود تھیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے حالیہ برسوں میں اپنی بحری حکمت عملی کو وسعت دیتے ہوئے تجارتی جہازوں کو فوجی مقاصد کے لیے تبدیل کرنا شروع کیا تھا۔ اس کا مقصد خلیج فارس، بحیرہ عرب اور دیگر اہم سمندری راستوں میں اپنی موجودگی کو مضبوط بنانا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کی بحری سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، تاہم اس حملے کے بارے میں ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جہاز واقعی شدید نقصان کا شکار ہوا ہے تو یہ ایران کی بحری حکمت عملی کے لیے ایک اہم دھچکا ہو سکتا ہے، کیونکہ اس طرح کے جہاز دور دراز علاقوں میں آپریشنز کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔



