
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکا میں محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی (DHS) کی بندش کا بحران مزید گہرا ہو گیا ہے، جب ایوانِ نمائندگان کے ریپبلکن ارکان نے ایک دو جماعتی معاہدے کو مسترد کر دیا، جس کا مقصد ادارے کو دوبارہ کھولنا تھا۔ اس فیصلے کے بعد حکومت اور کانگریس کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ریپبلکن قیادت نے سینیٹ کی جانب سے پیش کیے گئے بل کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر مؤثر قرار دیا اور اعلان کیا کہ وہ اپنی الگ قانون سازی کے ذریعے ادارے کی فنڈنگ کا حل نکالیں گے۔ اس پیش رفت نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کے درمیان اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
اگرچہ امیگریشن اور بارڈر سکیورٹی سے متعلق کچھ اہم ادارے، جیسے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) اور بارڈر پٹرول، پہلے سے منظور شدہ فنڈز کے باعث کام جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے دیگر اہم شعبے بدستور مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ ان میں فیما (FEMA)، سائبر سکیورٹی ادارے اور کوسٹ گارڈ کا سویلین عملہ شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف قومی سلامتی بلکہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اگر فنڈنگ کا مسئلہ جلد حل نہ ہوا تو قدرتی آفات، سائبر حملوں اور سرحدی سکیورٹی جیسے اہم شعبے متاثر ہو سکتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بحران امریکا میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم کی ایک اور مثال ہے، جہاں اہم قومی اداروں کی فنڈنگ بھی سیاسی اختلافات کی نذر ہو رہی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کچھ اداروں کے لیے عبوری فنڈنگ کے اقدامات کیے گئے ہیں، لیکن مکمل حل کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہے۔
دوسری جانب عوامی سطح پر بھی اس صورتحال پر تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ طویل بندش سے نہ صرف سرکاری ملازمین متاثر ہوتے ہیں بلکہ سکیورٹی اور ہنگامی خدمات بھی محدود ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر سیاسی قیادت نے جلد اتفاق رائے پیدا نہ کیا تو یہ بحران مزید طول پکڑ سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف امریکا بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔



