امریکاتازہ ترین

امریکی جہازوں کو غرق کرنے والی ایرانی مچھلی

کیا ایران امریکی بحری بیڑوں کو ڈبو سکتا ہے ؟ خفیہ رپورٹ جاری

(تازہ حالات رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران ایرانی بحری صلاحیتوں سے متعلق نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ اسرائیلی عسکری حلقوں کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اپنے تیز رفتار ٹارپیڈو ’’الحوت‘‘ کو امریکی طیارہ بردار جہازوں کے خلاف ایک ممکنہ مؤثر ہتھیار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

ایران نے امریکی جہازوں کو سمندر میں غرق کرنے والی میزائل نما مچھلی حوت بنالی – جو روسی ساختہ ٹارپیڈو میزائل شکوال یعنی طوفان کی ریورس انجینیئرنگ ہے – اس کی رفتار 360 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے – یہ 2006 سے ایران کے پاس ہے جس کو روس کی ہیلپ سے مزید اڈوانس بنایا گیا ہے – علی خامنائی نے امریکی جہازوں کو ڈبونے والے جس ہتھیار کا ذکر کیا وہ یہی ہے یا اس سے زیادہ کوئی خطرناک ہے

یہ اندازے اس وقت سامنے آئے جب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حالیہ خطاب میں کہا کہ ’’جہاز سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اسے سمندر کی تہہ میں پہنچا سکتا ہے۔‘‘ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی طیارہ بردار جہاز USS Abraham Lincoln اور USS Gerald R. Ford خطے میں تعینات کیے گئے۔

اسرائیلی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کا اشارہ ممکنہ طور پر ’’الحوت‘‘ ٹارپیڈو کی جانب ہو سکتا ہے، جسے ایرانی بحری حکمتِ عملی کا ایک اہم جزو سمجھا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ ٹارپیڈو روسی ساختہ VA-111 Shkval کا ترمیم شدہ ورژن سمجھا جاتا ہے اور ’’سپر کیویٹیشن‘‘ ٹیکنالوجی پر کام کرتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے تحت ٹارپیڈو پانی میں ایک گیس کے غبارے کے اندر سفر کرتا ہے، جس سے پانی کی رگڑ کم ہو جاتی ہے اور رفتار غیر معمولی حد تک بڑھ جاتی ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق ’’الحوت‘‘ کی رفتار تقریباً 300 سے 360 کلومیٹر فی گھنٹہ تک بتائی جاتی ہے، جو روایتی ٹارپیڈوز کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ اس میں ٹھوس ایندھن والا راکٹ انجن استعمال ہوتا ہے اور اسے آبدوز، سطحی جہاز یا دیگر بحری پلیٹ فارم سے داغا جا سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس کا وار ہیڈ تقریباً 200 کلوگرام سے زائد دھماکہ خیز مواد لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تاہم ماہرین یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ رفتار اس کی بڑی طاقت ہے، لیکن اس کا مؤثر فاصلہ محدود ہے، جو اندازاً 10 سے 50 کلومیٹر کے درمیان بتایا جاتا ہے۔ مزید برآں، گیس ببل کے اندر حرکت کے باعث پیدا ہونے والی شدید آواز اس کے رہنمائی نظام کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے ہدف کی درست نشاندہی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

امریکی بحری بیڑے کی موجودگی اور ایران کے جوابی بیانات کے تناظر میں خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہتھیاروں کی دوڑ نے بحری جنگ کے منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جہاں رفتار، الیکٹرانک وارفیئر اور دفاعی نظام فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ بیانات محض نفسیاتی دباؤ کا حصہ ہیں یا واقعی خطے میں طاقت کے توازن میں کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ فی الحال سفارتی اور عسکری دونوں محاذوں پر صورتحال انتہائی حساس سمجھی جا رہی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button