
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران سستے جنگی ڈرونز تیزی سے جدید جنگی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے استعمال کیے جانے والے کم لاگت شاہد (Shahed) ڈرونز نے نہ صرف خطے میں دفاعی نظام کو چیلنج کیا ہے بلکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بھی نئی ٹیکنالوجی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک کی سمت بڑی تعداد میں کم قیمت خودکش ڈرونز استعمال کیے، جس کے بعد امریکی فوج نے بھی اسی طرز کے کم لاگت ڈرونز تیار کرنے پر کام تیز کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی دفاعی اداروں نے “لوکاس” (Lucas) نامی ایک نیا ڈرون تیار کیا ہے جسے حال ہی میں پہلی مرتبہ فوجی کارروائیوں میں استعمال کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق جدید جنگ میں ڈرونز اس لیے اہم ہو گئے ہیں کیونکہ ان کی قیمت نسبتاً کم جبکہ استعمال کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق شاہد یا لوکاس جیسے ڈرون کی قیمت تقریباً 35 ہزار ڈالر تک ہو سکتی ہے، جبکہ انہیں تباہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے جدید میزائلوں کی قیمت بعض اوقات لاکھوں یا حتیٰ کہ ملین ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی وجہ سے کم لاگت ڈرونز مہنگے دفاعی نظام پر اقتصادی دباؤ بھی ڈال سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ ڈرون تقریباً تین میٹر لمبے ہوتے ہیں اور سینکڑوں کلومیٹر تک خودکار انداز میں ہدف تک پہنچ سکتے ہیں۔ ان میں نصب بارودی مواد ہدف سے ٹکرانے پر پھٹ جاتا ہے، جس سے بنیادی تنصیبات یا انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے ہزاروں ڈرونز مختلف خفیہ مقامات اور غاروں میں ذخیرہ کر رکھے ہیں، جس کے باعث وہ بڑی تعداد میں “ڈرون سوارم” یعنی بیک وقت درجنوں یا سینکڑوں ڈرونز کے حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایسے حملے دفاعی نظام کو الجھا سکتے ہیں اور فضائی نگرانی کو مشکل بنا دیتے ہیں۔

تاہم ان ڈرونز کی کچھ کمزوریاں بھی بتائی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ نسبتاً سست رفتار ہوتے ہیں اور ان کی آواز بھی زیادہ ہوتی ہے، جس کے باعث بعض حالات میں انہیں نشانہ بنانا آسان ہو سکتا ہے۔ اسی طرح الیکٹرانک وارفیئر یا سگنل جامنگ کے ذریعے بھی ان کے نیویگیشن نظام کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس۔یوکرین جنگ کے دوران بھی شاہد ڈرونز بڑے پیمانے پر استعمال ہوئے تھے اور اسی جنگ نے دنیا کو کم قیمت ڈرونز کی طاقت کا احساس دلایا۔ یوکرین نے ان کے مقابلے کے لیے کیمرہ، آواز کے سینسر اور مشین گن جیسے نسبتاً سادہ نظام استعمال کر کے نئی حکمتِ عملی تیار کی۔
دفاعی مبصرین کے مطابق آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت (AI) اور خودکار نظام کی ترقی کے ساتھ سستے ڈرونز جدید جنگوں کا مستقل حصہ بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ، یورپی ممالک اور خلیجی ریاستیں اب ایسے نظام تیار کرنے پر توجہ دے رہی ہیں جو کم لاگت ڈرون حملوں کا مؤثر مقابلہ کر سکیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ جنگ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مستقبل کی لڑائیاں صرف مہنگے ہتھیاروں سے نہیں بلکہ کم قیمت مگر بڑی تعداد میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی سے بھی متاثر ہوں گی۔



