
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )رپورٹس کے مطابق امریکہ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں میں پہلی بار جدید Precision Strike Missile (PrSM) استعمال کیا ہے۔ دفاعی تجزیاتی ویب سائٹس کے مطابق یہ میزائل امریکی فوج کے جدید ترین ٹیکٹیکل بیلسٹک ہتھیاروں میں شمار ہوتا ہے اور اسے M142 HIMARS راکٹ لانچر سے فائر کیا جاتا ہے۔
فوجی ذرائع کے مطابق یہ میزائل خاص طور پر دشمن کے ریڈار سسٹمز، فضائی دفاعی تنصیبات اور اہم عسکری ڈھانچے کو تیزی اور درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ PrSM دراصل پرانے ATACMS میزائل سسٹم کی جگہ لینے کے لیے تیار کیا گیا تھا اور اسے جدید جنگی ضروریات کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس میزائل کی بنیادی رینج 500 کلومیٹر سے زیادہ بتائی جاتی ہے، جبکہ آئندہ ورژنز میں اس کی رینج 650 کلومیٹر سے بڑھا کر ایک ہزار کلومیٹر تک کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ رفتار کے لحاظ سے بھی یہ میزائل انتہائی تیز سمجھا جاتا ہے اور آخری مرحلے میں یہ ماخ 3 سے زیادہ رفتار حاصل کر سکتا ہے، جس کی وجہ سے اسے روکنا دفاعی نظاموں کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔

PrSM میزائل امریکی دفاعی کمپنی Lockheed Martin نے تیار کیا ہے اور اسے نہ صرف HIMARS بلکہ M270 MLRS راکٹ لانچر سے بھی فائر کیا جا سکتا ہے۔ ہر لانچر پر دو میزائل نصب کیے جا سکتے ہیں۔ اس میزائل میں طاقتور دھماکہ خیز وارہیڈ نصب ہوتا ہے جو مضبوط فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دفاعی مبصرین کے مطابق امریکہ اس میزائل کے مزید جدید ورژنز پر بھی کام کر رہا ہے۔ مستقبل میں تیار کیے جانے والے بعض ورژنز کو متحرک اہداف جیسے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے قابل بنایا جا سکتا ہے، جبکہ بعض ورژنز میں ڈرون یا چھوٹے گائیڈڈ ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی شامل کی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس جدید میزائل کے میدانِ جنگ میں استعمال سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ تنازع میں جدید ٹیکنالوجی اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس طرح کے ہتھیار دشمن کے دفاعی نظام کو کمزور کرنے اور اہم فوجی تنصیبات کو دور سے نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔



