
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران نے بوشہر جوہری پاور پلانٹ کے قریب ایک اور حملے کی تصدیق کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس حساس تنصیب کو نقصان پہنچا تو پورے خطے میں سنگین جوہری حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ ایرانی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے مطابق جمعہ کی شام ایک میزائل بوشہر پلانٹ کے قریب گرا، تاہم خوش قسمتی سے اس سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ گزشتہ دس دنوں میں بوشہر کے قریب تیسرا حملہ ہے، جس نے بین الاقوامی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کو بھی اس واقعے سے آگاہ کیا ہے، جس نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے صورتحال پر نظر رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ بوشہر پلانٹ ایک فعال جوہری تنصیب ہے، جہاں بڑی مقدار میں تابکار مواد موجود ہے، اور کسی بھی قسم کا نقصان نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کے دیگر اہم جوہری اور صنعتی مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اراک میں واقع ہیوی واٹر ری ایکٹر، یزد صوبے میں یورینیم پروسیسنگ پلانٹ اور اردکان میں یورینیم کنسنٹریٹ بنانے والی تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ اراک کے ہیوی واٹر پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس سے کسی قسم کے تابکاری اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔ اسی طرح ایک اسٹیل پلانٹ، جہاں تابکار مواد استعمال ہوتا ہے، پر حملے کے باوجود کوئی ریڈیولوجیکل خطرہ رپورٹ نہیں ہوا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے ایران کے مرکزی علاقوں میں جوہری نوعیت کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں اراک ری ایکٹر اور یورینیم پروسیسنگ مراکز شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا انتہائی حساس معاملہ ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف جنگی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ کسی بڑے حادثے کی صورت میں اس کے اثرات سرحدوں سے باہر تک پھیل سکتے ہیں۔
ایران نے ان حملوں کے بعد سخت ردعمل کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی جوہری تنصیبات کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال خطے کو ایک خطرناک مرحلے میں داخل کر رہی ہے، جہاں کسی بھی بڑی غلطی کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔


