
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران جنگ نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی طاقتوں کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق چین اس تنازع کو ایک اہم موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے اور جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے جنگ کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے مشاہدہ کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق چین کے جیلن-1 (Jilin-1) نامی سیٹلائٹ نیٹ ورک کے تین سو سے زائد سیٹلائٹس اس وقت جنگی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ یہ سیٹلائٹس میدانِ جنگ میں ہونے والی نقل و حرکت، میزائلوں کے راستے، فضائی کارروائیوں اور فوجی رسد کی ترسیل جیسے عوامل کا مسلسل ڈیٹا جمع کر رہے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین اس ڈیٹا کو مستقبل کی عسکری تحقیق اور دفاعی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ خاص طور پر امریکی فوجی کارروائیوں کے طریقہ کار، فضائی دفاعی نظام کے ردعمل اور جنگی آپریشنز کی رفتار جیسے عوامل کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق جدید سیٹلائٹ نیٹ ورک کی مدد سے چین کو یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ حقیقی جنگی حالات میں بڑی طاقتوں کی فوجی حکمتِ عملی کو سمجھ سکے۔ اس طرح حاصل ہونے والا ڈیٹا مستقبل میں ہتھیاروں کی تیاری، دفاعی نظام کی بہتری اور فوجی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جدید دور میں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ خلائی ٹیکنالوجی اور ڈیٹا تجزیہ بھی اس کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ اسی وجہ سے بڑی طاقتیں دنیا کے مختلف تنازعات کو ایک طرح کی عملی لیبارٹری کے طور پر دیکھتی ہیں جہاں سے انہیں اپنی فوجی حکمتِ عملی کو بہتر بنانے کا موقع ملتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر چین اس تنازع سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو مؤثر طریقے سے استعمال کرتا ہے تو یہ مستقبل میں اس کی عسکری تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی کے لیے طویل المدتی فائدہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے چینی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔



