
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے ابتدائی مراحل کو ماہرین نے جدید دور کی سب سے تیز اور شدید فضائی مہموں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز کے پہلے ہی گھنٹوں میں روزانہ تقریباً ایک ہزار اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جو اس تنازع کی شدت اور رفتار کو واضح کرتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کی تیز رفتار کارروائیاں ماضی کی بڑی جنگوں جیسے عراق جنگ یا افغانستان آپریشنز کے مقابلے میں بھی کہیں زیادہ وسیع اور مربوط دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بار صرف اہداف کی تعداد ہی زیادہ نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، ڈرونز، اسمارٹ بمز اور انٹیلی جنس سسٹمز کا بھی بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس جنگ میں فضائی حملوں کا دائرہ انتہائی وسیع ہے، جہاں میزائل لانچرز، فوجی اڈے، کمانڈ سینٹرز اور اسٹریٹجک تنصیبات کو بیک وقت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی "ہائی انٹینسٹی” مہم کا مقصد دشمن کی صلاحیت کو ابتدائی مرحلے میں ہی شدید نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس جنگ کی ایک نمایاں خصوصیت اس کی رفتار ہے، جہاں فیصلے اور کارروائیاں انتہائی کم وقت میں کی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید فضائی برتری، سیٹلائٹ نگرانی اور ڈرون ٹیکنالوجی نے جنگ کو مزید پیچیدہ اور مؤثر بنا دیا ہے۔
دوسری جانب ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سطح کی تیز رفتار اور وسیع کارروائیاں نہ صرف فوجی بلکہ انسانی اور معاشی سطح پر بھی بڑے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ خاص طور پر شہری انفراسٹرکچر اور توانائی کے نظام پر دباؤ بڑھنے سے خطے میں عدم استحکام میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ چار دہائیوں کی جنگوں کے مقابلے میں اس تنازع کی شدت اور پیمانہ غیر معمولی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید جنگی حکمت عملی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور مستقبل کی جنگیں زیادہ مختصر مگر انتہائی شدید ہو سکتی ہیں۔
ایران-امریکہ-اسرائیل جنگ کے ابتدائی مراحل میں شدید اور تیز رفتار فضائی حملوں نے اسے جدید تاریخ کی نمایاں ترین فوجی مہموں میں شامل کر دیا ہے، جہاں ٹیکنالوجی اور رفتار نے جنگ کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔



