امریکاتازہ ترین

ہزاروں امریکی فوجی مشرق وسطیٰ روانہ، ایران تنازع نازک مرحلے میں داخل

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکا نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے پیش نظر مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کی تیاری تیز کر دی ہے، جہاں پینٹاگون کے مطابق تقریباً 5 ہزار تک اضافی فوجی اہلکار تعینات کیے جا سکتے ہیں، جبکہ کچھ دستے پہلے ہی روانہ ہو چکے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اس نئی تعیناتی میں بری فوج کے پیراٹروپرز اور میرینز شامل ہوں گے، جو تیزی سے کارروائی کرنے والی فورسز کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان میں تقریباً 1500 اہلکار معروف 82ویں ایئر بورن ڈویژن سے تعلق رکھتے ہیں، جو دشمن کے علاقے میں فوری رسائی اور حساس مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ یونٹ دنیا کی جدید ترین اور تیز رفتار تعیناتی کے لیے تیار فورسز میں شمار ہوتی ہے، جو ہنگامی حالات میں کم وقت میں کسی بھی مقام پر کارروائی کر سکتی ہے۔ تاہم یہ ضروری نہیں کہ یہ فوجی روایتی انداز میں پیراشوٹ کے ذریعے اتریں، کیونکہ جدید جنگی حکمت عملی میں مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکی میرینز کے دو بڑے یونٹس بھی خطے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ 31ویں میرین ایکسپڈیشنری یونٹ، جس میں تقریباً 2200 اہلکار شامل ہیں، جاپان سے سمندری راستے کے ذریعے روانہ ہو چکی ہے اور اس ہفتے مشرق وسطیٰ پہنچنے کی توقع ہے۔ اسی طرح 11ویں میرین یونٹ بھی امریکا سے روانہ ہو رہی ہے، تاہم اس کی مکمل تعیناتی میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔

دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ ان فوجیوں کا زیادہ تر تعلق "لائٹ انفنٹری” سے ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ بھاری ٹینکوں یا بڑے جنگی سازوسامان کے بغیر تعینات کیے جا رہے ہیں، اور ان کا مقصد فوری ردعمل، سیکیورٹی کنٹرول اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنا ہوتا ہے۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ فوجی اردن یا کویت جیسے امریکی اتحادی ممالک میں قائم فوجی اڈوں پر تعینات کیے جا سکتے ہیں، جہاں سے خطے میں کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے فوری رسائی حاصل کی جا سکے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تعیناتی اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکا نہ صرف سفارتی سطح پر سرگرم ہے بلکہ ممکنہ فوجی آپشنز کو بھی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں مشرق وسطیٰ پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہے، اور کسی بھی بڑی فوجی نقل و حرکت سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا یہ تعیناتی صرف دفاعی اقدامات تک محدود رہے گی یا خطہ کسی بڑے فوجی تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button