امریکاتازہ ترین

کویت میں 3 امریکی ایف-15 طیارے گر کر تباہ، ٹرمپ کا ایران جنگ طویل ہونے کا اعلان

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری شدید فضائی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی ایک مکمل جنگ کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ یہ کارروائیاں کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں، اور ضرورت پڑنے پر اس سے بھی طویل ہو سکتی ہیں۔

کویت میں بڑا حادثہ: امریکی طیارے ‘فرینڈلی فائر’ کا شکار
امریکی عسکری حکام کے مطابق، کویت میں جنگی کارروائیوں کے دوران غلطی سے تین امریکی ‘ایف-15 ای اسٹارک ایگل’ طیارے مار گرائے گئے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطہ شدید تناؤ کی زد میں ہے۔ اس حادثے کے ساتھ ہی امریکی محکمہ خارجہ نے ایک درجن سے زائد ممالک میں موجود اپنے شہریوں کو فوری طور پر وہاں سے نکل جانے کی ہدایت کر دی ہے۔
ٹرمپ کا بڑا بیان: "جنگ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے”
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف شروع کی گئی مہم چار سے پانچ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے، تاہم وہ اس سے کہیں زیادہ طویل عرصے تک لڑنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس آپریشن کا مقصد ایران کی بحریہ کو ختم کرنا اور اس کے جوہری و میزائل عزائم کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنا ہے۔دوسری جانب امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ کویت میں دورانِ جنگ غلطی سے تین امریکی ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل طیارے مار گرائے گئے۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ فضا میں شدید دباؤ اور تیزی سے بدلتی جنگی صورتحال کے دوران پیش آیا۔ مزید برآں دو لاپتہ امریکی اہلکاروں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کر دی گئی ہے، جس کے بعد ایران کے خلاف کارروائیوں میں امریکی فوجیوں کی مجموعی ہلاکتیں چھ ہو گئی ہیں۔

ایران اور اس کے اتحادیوں نے بھی جوابی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ لبنان میں حزب اللہ نے ایک سال سے زائد عرصے بعد اسرائیل پر میزائل فائر کیے، جس کے جواب میں اسرائیل نے بیروت کے جنوبی علاقوں پر حملے کیے۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق درجنوں افراد ہلاک ہوئے جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد نے محفوظ علاقوں کی جانب نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ لبنانی حکومت نے حزب اللہ کی کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس سے ہتھیار حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خطے میں جاری اس تصادم کے عالمی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ دبئی جیسے محفوظ سمجھے جانے والے مراکز کے قریب بھی حملوں کی اطلاعات ہیں، عالمی سطح پر لاکھوں مسافر پروازوں کی منسوخی کے باعث پھنس گئے ہیں اور تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ امریکہ کے اتحادی ممالک نے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے تعاون کا اعلان کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر کی ہلاکت، شدت اختیار کرتے حملے اور کسی واضح سفارتی راستے کی عدم موجودگی اس تنازع کو طویل اور پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ اگر فوری جنگ بندی یا مذاکرات کی راہ ہموار نہ ہوئی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور سلامتی پر بھی مرتب ہوں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button