ایرانتازہ ترین

ایران جوابی کارروائیاں کر رہا ہے مگر توقع سے زیادہ طاقتور نہیں: امریکی جنرل

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکی فوج کے ایک اعلیٰ جنرل نے کہا ہے کہ ایران جنگ میں جوابی کارروائیاں ضرور کر رہا ہے، تاہم اس کی فوجی صلاحیتیں امریکی اندازوں سے زیادہ مضبوط ثابت نہیں ہوئیں۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اپنے دسویں روز میں داخل ہو چکی ہے اور خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے حکام کے مطابق ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے ردعمل سامنے آیا ہے، تاہم امریکی فوج کو اس سے زیادہ شدید مزاحمت کی توقع تھی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور سفارتی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں مزید شدت لائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق جنگ کے حالیہ دن میں ایران کے اندر اب تک کی سب سے بڑی بمباری کی گئی، جس میں زیادہ تعداد میں لڑاکا طیارے اور بمبار استعمال کیے گئے جبکہ جدید انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکہ اس وقت تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا جب تک ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مکمل طور پر کمزور نہ کر دیا جائے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل روکنے کی دھمکیوں کے بعد امریکی فوج نے بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازوں اور متعلقہ تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

ادھر ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد مختلف مقامات پر جوابی حملے کیے ہیں جن میں بعض خلیجی ممالک میں موجود فوجی تنصیبات، ہوٹلوں اور توانائی کے ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اسی دوران ایران نے اپنے نئے سپریم لیڈر کے طور پر سخت مؤقف رکھنے والے مجتبیٰ خامنہ ای کو نامزد کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اسی لیے عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button