امریکاتازہ ترین

ٹرمپ نے عیسائیوں کے مذہبی رہنما پوپ کو خطرناک دھمکی دیدی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

واشنگٹن/ویٹیکن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ویٹیکن کے درمیان تعلقات میں کشیدگی بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں مبینہ طور پر امریکا کی جانب سے چرچ کو سخت پیغام دیا گیا ہے کہ وہ عالمی معاملات میں واضح طور پر کسی ایک جانب کھڑا ہو۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے ویٹیکن کے نمائندے کو طلب کیا، جہاں انہیں امریکا کی فوجی طاقت اور عالمی اثر و رسوخ کے حوالے سے واضح مؤقف سے آگاہ کیا گیا۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی حکام نے ویٹیکن کو خبردار کیا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں غیر جانبداری اختیار کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس دوران تاریخی حوالہ بھی دیا گیا، جس میں ماضی کے ایک ایسے دور کا ذکر کیا گیا جب ریاستی طاقت کے ذریعے مذہبی اداروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس تناظر میں موجودہ صورتحال کو ایک نازک سفارتی مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ کشیدگی اس وقت بڑھتی دکھائی دیتی ہے جب ویٹیکن کی جانب سے عالمی سطح پر فوجی طاقت کے استعمال پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات نمایاں ہو گئے۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ویٹیکن کے تعلقات تاریخی طور پر اہم رہے ہیں، لیکن حالیہ بیانات اور اقدامات نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ عالمی سیاست میں مذہبی اور سیاسی اداروں کے کردار کو کس طرح متوازن رکھا جائے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف سفارتی تعلقات بلکہ عالمی رائے عامہ پر بھی پڑ سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا پہلے ہی مختلف تنازعات اور کشیدگیوں کا سامنا کر رہی ہے۔

مجموعی طور پر صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت اور اصولوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے، جہاں ہر فریق اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button