
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکا میں جاری ایران جنگ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات سیاسی سطح پر بھی واضح ہونے لگے ہیں، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق ٹرمپ کی منظوری کی شرح کم ہو کر 36 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو ان کے موجودہ دورِ صدارت کی کم ترین سطح سمجھی جا رہی ہے۔
ریسرچ کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران ٹرمپ کی مقبولیت میں چار فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عوامی رائے تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ خاص طور پر معیشت اور روزمرہ اخراجات کے حوالے سے عوامی اعتماد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
سروے میں شامل افراد میں سے صرف 25 فیصد نے زندگی گزارنے کے بڑھتے اخراجات پر ٹرمپ کی پالیسیوں کو سراہا، جبکہ معاشی کارکردگی کے حوالے سے ان کی منظوری 29 فیصد تک محدود رہی۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار امریکی عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور مہنگائی کے دباؤ کو ظاہر کرتے ہیں۔
ایران جنگ بھی اس گرتی ہوئی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ بن کر سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا میں پٹرول کی قیمتوں میں تقریباً ایک ڈالر فی گیلن اضافہ ہوا ہے، جس نے عام شہریوں پر اضافی مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے سے یہ صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

عوامی رائے کے مطابق ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں پر بھی اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ سروے میں صرف 35 فیصد افراد نے ان حملوں کی حمایت کی، جبکہ اکثریت یعنی 61 فیصد نے اس کی مخالفت کی۔ مزید یہ کہ 46 فیصد افراد کا خیال ہے کہ یہ جنگ طویل مدت میں امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا سکتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے اندر ٹرمپ کی حمایت اب بھی نسبتاً مستحکم ہے، تاہم مجموعی طور پر ملک میں سیاسی تقسیم گہری ہوتی جا رہی ہے۔ معیشت کے معاملے پر 38 فیصد افراد ریپبلکنز پر اعتماد کرتے ہیں، جبکہ 34 فیصد ڈیموکریٹس کو ترجیح دیتے ہیں، جو ایک قریبی مقابلے کی نشاندہی کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایندھن کی قیمتیں اور مہنگائی اسی طرح بڑھتی رہیں تو یہ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا میں وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں۔
موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ خارجہ پالیسی اور معاشی دباؤ ایک ساتھ مل کر امریکی سیاست کو متاثر کر رہے ہیں، اور آنے والے مہینوں میں یہ عوامل سیاسی منظرنامے کو مزید تبدیل کر سکتے ہیں۔



