ایرانتازہ ترین

ایران جنگ پر ممکنہ پیش رفت، ٹرمپ کا دعویٰ—امن منصوبے پر اتفاق کے اشارے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے امریکی منصوبے کے بیشتر نکات سے اتفاق کر رہا ہے۔

ایئر فورس ون پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو ایک 15 نکاتی منصوبہ بھیجا گیا تھا، جس پر تہران نے “زیادہ تر نکات” تسلیم کر لیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچایا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان اس حوالے سے رابطے جاری ہیں۔

ٹرمپ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران اس منصوبے سے اتفاق کر رہا ہے اور ممکنہ طور پر مزید شرائط پر بھی بات چیت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ امریکہ اس منصوبے میں مزید چند نکات شامل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔

اگرچہ ایران کی جانب سے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم سفارتی حلقوں کے مطابق پس پردہ رابطوں میں تیزی آئی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریق کسی ممکنہ حل کی تلاش میں ہیں۔

دوسری جانب خطے میں کشیدگی تاحال برقرار ہے۔ اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں کارروائی کرتے ہوئے دو افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن پر دھماکہ خیز مواد نصب کرنے کا الزام تھا۔ اسی دوران اسرائیلی فضائیہ نے یمن سے داغے گئے دو ڈرونز کو بھی فضا میں ہی تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران کا خنداب ہیوی واٹر پلانٹ اس وقت فعال نہیں ہے، جو جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اگرچہ مذاکرات کے آثار نظر آ رہے ہیں، لیکن زمینی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے، کیونکہ مختلف محاذوں پر فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات بعض اوقات سفارتی دباؤ بڑھانے کے لیے بھی دیے جاتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر واقعی ایران اور امریکہ کے درمیان کسی ابتدائی اتفاق کی بنیاد بن رہی ہے تو یہ جنگ کے خاتمے کی طرف ایک اہم قدم ہو سکتا ہے، تاہم اس کے لیے دونوں فریقوں کو مزید عملی اقدامات اور اعتماد سازی کی ضرورت ہوگی۔

موجودہ صورتحال میں دنیا بھر کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ سفارتی پیش رفت عملی شکل اختیار کرتی ہے یا خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button