
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی صدر Donald Trump نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث چینی صدر Xi Jinping سے ہونے والی اہم ملاقات کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے عالمی سفارتکاری میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق وہ اس وقت واشنگٹن میں رہ کر ایران سے متعلق صورتحال کی نگرانی کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے بیجنگ کا طے شدہ دورہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات اب چند ہفتوں بعد متوقع ہے۔
جنگ کا اثر عالمی سفارتکاری پر
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جاری تنازع اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے اور آبنائے ہرمز تقریباً بند ہے، جس سے عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس صورتحال نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر سفارتی ترجیحات کو بھی تبدیل کر دیا ہے، جہاں فوری توجہ سیکیورٹی اور توانائی بحران پر مرکوز ہو گئی ہے۔
چین کا بڑھتا کردار
دلچسپ طور پر صدر ٹرمپ نے چین سے اس بحران کے حل میں مدد کی امید بھی ظاہر کی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے میں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین، جو ایران کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اس بحران میں ایک اہم ثالثی کردار ادا کر سکتا ہے۔

اہم ملاقات کیوں اہم تھی؟
ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں کئی اہم موضوعات زیر غور آنے تھے، جن میں:
- تجارتی تعلقات اور ٹیرف
- نایاب معدنیات (Rare Earth) کی برآمدات
- تائیوان کا مسئلہ
- عالمی سیکیورٹی صورتحال
ماہرین کے مطابق یہ ملاقات امریکہ اور چین کے تعلقات کے مستقبل کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی تھی۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران جنگ نے امریکہ کو ایک مشکل پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے، جہاں اسے نہ صرف فوجی محاذ بلکہ سفارتی محاذ پر بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔
کچھ ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز بند رہتی ہے تو عالمی تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر عالمی معیشت پر پڑے گا۔
ٹرمپ کا چین دورہ مؤخر کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران جنگ اس وقت امریکہ کی اولین ترجیح بن چکی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ آیا چین اس بحران کے حل میں کوئی کردار ادا کرے گا یا نہیں — اور کیا آنے والے ہفتوں میں عالمی سفارتکاری ایک نئے موڑ پر پہنچے گی۔



