امریکاایرانتازہ ترین

ٹرمپ کا ایران سے “غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” کا مطالبہ، جنگ دوسرے ہفتے میں داخل

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے “غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ قیادت کی جگہ ایسا نیا رہنما آنا چاہیے جو عالمی برادری اور واشنگٹن کے لیے قابلِ قبول ہو۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے جاری ہیں اور جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو رہی ہے۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی قسم کا معاہدہ صرف اسی صورت ممکن ہوگا جب تہران مکمل طور پر ہتھیار ڈال دے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی ایران کی معیشت کو دوبارہ مضبوط بنانے میں مدد کر سکتے ہیں تاکہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالا جا سکے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں چار سے چھ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد ایران کی فوجی اور بحری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچانا ہے تاکہ خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کیا جا سکے۔

اس دوران ایران کی قیادت کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ حالیہ حملوں میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد یہ واضح نہیں کہ ملک کی قیادت کس کے ہاتھ میں جائے گی۔ بعض رپورٹس میں ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے نام پر بھی غور ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم امریکی صدر نے اس امکان کو “ناقابل قبول” قرار دیا ہے۔

دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور حملوں میں ہلاک ہونے والوں پر افسوس کا اظہار کیا۔ کریملن کے مطابق پیوٹن نے ایک بار پھر زور دیا کہ کشیدگی کو فوری طور پر ختم کر کے مسئلے کا سفارتی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

جنگ کے پھیلاؤ کے ساتھ خطے میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایران کے اتحادی گروپ حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کے بعد اسرائیلی فوج نے لبنان میں بھی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ ایران کے ردعمل میں خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کے قریب ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تنازع مزید طول پکڑتا ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button