
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ٹرمپ کی ایران کو خطرناک دھمکی منگل والے دن ایران کے پلانٹس پل اور باقی سب کچھ تباہ کردیا جائے گا ۔ کچھ بھی نہیں بچے گا ۔ آبنائے ہرمز ہم کھلوا کر دکھائیں گے ۔
اگر ایران نے خود کھول دیا تو ٹھیک ورنہ ایرانی جہنم میں جائیں
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آنے والے دنوں میں ایران کے اہم انفراسٹرکچر، بشمول پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے خود صورتحال کو بہتر نہ کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ کے اس بیان کو ماہرین خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان براہ راست کشیدگی عروج پر ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کے بیانات نہ صرف سیاسی دباؤ بڑھاتے ہیں بلکہ ممکنہ فوجی کارروائیوں کے اشارے بھی دیتے ہیں۔

آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے، حالیہ کشیدگی کے باعث شدید دباؤ میں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ راستہ بند یا محدود رہا تو عالمی توانائی مارکیٹ پر اس کے گہرے اثرات پڑ سکتے ہیں۔
دوسری جانب تجزیہ کار اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ ایسے بیانات بعض اوقات دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی کا حصہ ہوتے ہیں اور ضروری نہیں کہ فوری عملی کارروائی کی صورت اختیار کریں۔ تاہم موجودہ صورتحال میں کسی بھی بیان کو نظر انداز کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اب صرف میدان جنگ تک محدود نہیں بلکہ بیانات اور نفسیاتی دباؤ کے ذریعے بھی ایک نئی سطح اختیار کر چکی ہے، جس کے اثرات پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔



