ایرانتازہ ترین

ایران سے معاہدہ ممکن تھا، پھر حملہ کیوں ہوا؟ برطانیہ کا سوال

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر جوناتھن پاول نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات میں شرکت کی اور ان کا ماننا تھا کہ ایران کی جانب سے دیا گیا جوہری پروگرام سے متعلق پیشکش ایک ممکنہ معاہدے کی بنیاد بن سکتی تھی، جو جنگ کو ٹالنے میں مددگار ثابت ہوتی۔

برطانوی اور مغربی سفارتی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات فروری کے آخر میں جنیوا میں ہوئے، جہاں عمان نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز "غیر متوقع” اور مثبت پیش رفت کا اشارہ تھیں۔

مذاکرات کے باوجود حملہ کیوں ہوا؟

اہم بات یہ ہے کہ مذاکرات ختم ہونے کے صرف دو دن بعد امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ کر دیا، جس کے باعث آئندہ مذاکراتی دور منسوخ ہو گیا، جو ویانا میں ہونا تھا۔

برطانوی حکام کے مطابق:

  • سفارتی راستہ ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا تھا
  • ایران معاہدے کے لیے تیار دکھائی دے رہا تھا
  • تاہم کچھ نکات، خاص طور پر اقوام متحدہ کے معائنوں پر اختلاف باقی تھا

اسی وجہ سے برطانیہ نے ابتدائی طور پر امریکی حملے کی مکمل حمایت سے گریز کیا۔

ایران کی پیشکش کیا تھی؟

ذرائع کے مطابق ایران نے مذاکرات میں کئی اہم تجاویز پیش کیں، جن میں:

  • افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو کم کر کے بین الاقوامی نگرانی میں لانا
  • مستقبل میں زیادہ افزودہ یورینیم ذخیرہ نہ کرنے کی یقین دہانی
  • محدود مدت کے لیے یورینیم افزودگی روکنے کی پیشکش (3 سے 5 سال)
  • امریکہ کو ایران کے سول نیوکلیئر پروگرام میں شامل ہونے کی دعوت

اس کے بدلے ایران نے معاشی پابندیوں میں بڑی حد تک نرمی کا مطالبہ کیا، جس میں بیرون ملک منجمد اثاثوں کی بحالی بھی شامل تھی۔

اختلاف کہاں پر ہوا؟

رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں سب سے بڑا اختلاف یورینیم افزودگی کے وقفے کی مدت پر سامنے آیا:

  • ایران 3 سے 5 سال کے وقفے پر آمادہ تھا
  • جبکہ امریکہ نے 10 سال کا مطالبہ کر دیا

یہی وہ نقطہ تھا جہاں معاملات مکمل معاہدے تک نہ پہنچ سکے، لیکن اس کے باوجود سفارتی پیش رفت جاری تھی۔

برطانیہ کا محتاط مؤقف

برطانوی حکومت کے قریبی ذرائع کے مطابق لندن کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ ایران فوری طور پر یورپ کے لیے کوئی بڑا فوجی خطرہ بن رہا ہے یا وہ جلد ایٹمی ہتھیار حاصل کر لے گا۔

اسی لیے برطانیہ نے:

  • حملے کو "جلد بازی” قرار دیا
  • سفارتی حل کو ترجیح دی
  • ابتدائی طور پر امریکی کارروائی میں عملی تعاون سے گریز کیا

یہ مؤقف امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات میں بھی تناؤ کا باعث بنا، جبکہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

کیا جنگ ٹل سکتی تھی؟

ماہرین کے مطابق:

  • مذاکرات مکمل نہیں ہوئے تھے، مگر پیش رفت واضح تھی
  • ایران کی پیشکش کو "بریک تھرو” کے قریب قرار دیا جا رہا تھا
  • مزید بات چیت سے معاہدہ ممکن تھا

اسی تناظر میں بعض تجزیہ کار موجودہ جنگ کو "قابلِ اجتناب” قرار دے رہے ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

موجودہ صورتحال میں:

  • سفارتی راستے تقریباً بند ہو چکے ہیں
  • خطے میں عسکری کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے
  • عالمی طاقتیں نئی حکمت عملی بنانے پر مجبور ہیں

تاہم ماہرین اب بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ طویل المدتی استحکام کے لیے مذاکرات ہی واحد مؤثر راستہ ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button