اسرائیلتازہ ترین

نیتن یاہو کی کافی پیتے ویڈیو پر سوشل میڈیا میں ہلچل، رائٹرز نے حقیقت واضح کر دی

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے کے بعد بحث چھڑ گئی کہ آیا یہ حقیقی ہے یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ویڈیو کی جانچ کے بعد یہ واضح ہوا کہ یہ کلپ حقیقی ہے اور اسے حال ہی میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔

یہ ویڈیو ایک ایسے وقت سامنے آئی جب عالمی سطح پر سوشل میڈیا پر نیتن یاہو کی موت یا زخمی ہونے کی افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا سمیت مختلف ذرائع پر اس حوالے سے خبریں سامنے آنے کے بعد یہ افواہیں تیزی سے پھیل گئیں۔

اتوار کو نیتن یاہو نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک مختصر ویڈیو شیئر کی جس میں وہ مقبوضہ بیت المقدس کے مضافات میں واقع ایک کیفے میں بیٹھ کر کافی پیتے اور اپنے معاون سے گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو میں ان کے معاون نے ان سے ان افواہوں کے بارے میں سوال کیا جس پر نیتن یاہو نے مزاحیہ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا:
“میں کافی کے لیے مر رہا ہوں… اور اپنے لوگوں کے لیے بھی۔”

ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد کئی صارفین نے اس کی حقیقت پر سوال اٹھائے اور کہا کہ یہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں AI کے ذریعے تیار کردہ جعلی ویڈیوز اور تصاویر تیزی سے سامنے آ رہی ہیں۔

تاہم رائٹرز کی فیکٹ چیک رپورٹ کے مطابق ویڈیو کی لوکیشن اور وقت کی تصدیق کی گئی۔ خبر رساں ادارے نے کیفے کی پرانی تصاویر اور اندرونی ڈیزائن کا موازنہ ویڈیو سے کیا جو ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ اسی دن کیفے کی جانب سے نیتن یاہو کے دورے کی مزید تصاویر اور ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں جن سے ویڈیو کے حقیقی ہونے کی تصدیق ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور معلوماتی جنگ کے ماحول میں سوشل میڈیا پر افواہیں اور جعلی مواد تیزی سے پھیل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے عالمی میڈیا ادارے اب خبروں کی تصدیق کے لیے فیکٹ چیکنگ اور ڈیجیٹل تحقیق کے طریقوں پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل میں جنگی یا سکیورٹی صورتحال کے دوران میڈیا پر فوجی سنسر شپ کے قوانین بھی نافذ ہوتے ہیں۔ اس نظام کے تحت بعض حساس معلومات شائع کرنے سے پہلے فوجی حکام کی اجازت درکار ہوتی ہے تاکہ سکیورٹی معاملات اور جنگی حکمت عملی سے متعلق معلومات عام نہ ہو سکیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور جاری جغرافیائی کشیدگی کے باعث معلومات کی درستگی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے، کیونکہ ایک غیر مصدقہ ویڈیو یا خبر عالمی سطح پر تیزی سے پھیل کر رائے عامہ کو متاثر کر سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button