امریکاتازہ ترین

ایران حملوں پر اپنے ہی حامیوں سے اختلاف، ٹرمپ بولے: “MAGA ٹرمپ ہے”

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )واشنگٹن: ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں نے جہاں عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے وہیں امریکہ کے اندر بھی سیاسی حلقوں میں اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔ خاص طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنے سیاسی حلقے “میگا” (MAGA) سے وابستہ بعض معروف قدامت پسند شخصیات نے اس فوجی مہم پر تنقید شروع کر دی ہے۔

چند معروف دائیں بازو کے مبصرین اور سابق ٹی وی میزبانوں کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی صدر ٹرمپ کے اس سیاسی نعرے “امریکہ فرسٹ” سے مطابقت نہیں رکھتی جس کے تحت بیرونِ ملک جنگوں سے گریز کی بات کی جاتی رہی ہے۔

سابق فاکس نیوز میزبان ٹکر کارلسن نے اپنے پوڈکاسٹ میں کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع بنیادی طور پر اسرائیل کا مسئلہ ہے اور امریکہ کو اس میں براہ راست شامل نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح معروف مبصر میگن کیلی نے بھی سوال اٹھایا کہ کسی دوسرے ملک کے تنازع میں امریکی شہریوں کو کیوں جان دینی چاہیے۔

کچھ قدامت پسند تجزیہ کاروں نے سوشل میڈیا پر یہ بھی کہا کہ ٹرمپ کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی ان کے ماضی کے بیانات سے مختلف دکھائی دیتی ہے، کیونکہ وہ پہلے طویل اور مہنگی بیرونی جنگوں کے سخت ناقد رہے ہیں۔

تاہم صدر ٹرمپ نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی پالیسی اب بھی امریکہ کے مفادات کے تحفظ پر مبنی ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا: “MAGA ٹرمپ ہے اور ٹرمپ ہی MAGA ہے۔” ان کے مطابق ان کے حامی سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی سلامتی اور طاقت کو یقینی بنانا سب سے اہم ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بھی صدر کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کا مقصد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرات کو کم کرنا ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ کارروائیاں ملک کی سلامتی کو مضبوط بنانے اور مستقبل میں ممکنہ خطرات کو روکنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑے سیاسی اتحاد کے اندر اختلافات ہونا غیر معمولی بات نہیں، تاہم ایران کے معاملے پر سامنے آنے والی بحث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ میں خارجہ پالیسی اور فوجی مداخلت کے بارے میں مختلف رائے پائی جاتی ہے۔

ایک حالیہ عوامی سروے کے مطابق امریکی عوام کی رائے بھی اس معاملے پر منقسم دکھائی دیتی ہے۔ کچھ شہری ایران کے خلاف سخت موقف کی حمایت کرتے ہیں جبکہ ایک بڑی تعداد اس بات پر زور دیتی ہے کہ امریکہ کو نئی جنگوں سے گریز کرنا چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ داخلی سیاسی بحث بھی آنے والے ہفتوں میں امریکی سیاست پر اثر انداز ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر یہ فوجی مہم طویل ہوتی ہے یا اس کے نتائج غیر متوقع نکلتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button