
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران اور امریکا-اسرائیل تنازع کے اثرات خلیجی ممالک تک پھیل گئے ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق Iran کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کے نتیجے میں Bahrain، Kuwait اور دیگر خلیجی ریاستوں میں متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن سے خطے میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔
بحرین کے دارالحکومت Manama میں ایک ایندھن ذخیرہ گاہ پر ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث شہر کے بعض علاقوں میں دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔ حکام کے مطابق سکیورٹی ادارے فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کو قابو میں کرنے کے اقدامات کیے گئے۔ شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔
ادھر کویت میں حکام نے بتایا کہ ڈرون حملوں کو روکنے کے دوران گرنے والے ملبے کی وجہ سے بجلی کی چھ بڑی لائنیں عارضی طور پر متاثر ہوئیں جس کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر بجلی کی بندش دیکھنے میں آئی۔ کویتی حکام کے مطابق صورتحال جلد قابو میں آ گئی اور بجلی و پانی کی فراہمی بحال کر دی گئی۔

اسی دوران Kuwait International Airport کو بھی ڈرون حملے کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم حکام کے مطابق اس واقعے میں صرف معمولی مالی نقصان ہوا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
دوسری جانب Saudi Arabia نے اعلان کیا کہ اس کی فضائی دفاعی نظام نے دو ڈرونز کو تباہ کر دیا جو شیبہ آئل فیلڈ کی جانب بڑھ رہے تھے۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق ایک اور ڈرون کو سفارتی علاقے کے قریب نشانہ بنایا گیا جہاں غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔
United Arab Emirates نے بھی کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے آنے والے میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ حکام کے مطابق مختلف شہروں میں سنائی دینے والی آوازیں دراصل دفاعی نظام کی کارروائیوں کا نتیجہ تھیں۔
ادھر Oman نے احتیاطی اقدام کے طور پر اپنے اہم تیل برآمدی ٹرمینل سے جہازوں کو عارضی طور پر ہٹا دیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔
علاقائی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کی جانب سے خلیجی خطے کے مختلف ممالک کی سمت ہزاروں میزائل اور ڈرون داغے جا چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں نے نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی اور سمندری تجارت کے حوالے سے بھی خدشات پیدا کر دیے ہیں۔



