
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )عراق کے شہر اربیل میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کے قریب میزائل ذخیرے کو نشانہ بنانے کی اطلاعات کے بعد خطے میں ایک بار پھر ڈرون ٹیکنالوجی پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق حملے میں استعمال ہونے والے ایرانی ڈرونز نے مبینہ طور پر حساس فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، تاہم واقعے کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں ایران نے ڈرون ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور مختلف اقسام کے بغیر پائلٹ طیارے تیار کیے ہیں، جن میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے اور مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے ماڈلز شامل ہیں۔
ڈرون ہدف تک کیسے پہنچتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق بعض جدید ڈرونز میں اینٹی ریڈی ایشن سسٹم نصب کیا جاتا ہے، جو دشمن کے ریڈار سے خارج ہونے والی ریڈیو لہروں کو شناخت کر کے اسی سمت بڑھتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو عموماً ARM (Anti-Radiation Mechanism) کہا جاتا ہے۔ جب کوئی ریڈار یا ایئر ڈیفنس سسٹم فعال ہوتا ہے تو وہ مخصوص سگنلز خارج کرتا ہے، اور اس نظام سے لیس ڈرون انہی سگنلز کی بنیاد پر ہدف تک پہنچ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ کچھ ڈرونز میں بصری رہنمائی یا آپٹیکل سیکر سسٹم بھی نصب ہوتا ہے، جو کیمرہ یا حرارتی سینسر کے ذریعے ہدف کی شناخت کرتا ہے۔ یہ نظام ہدف کی حرارت، شکل یا حرکت کو ٹریک کر کے درستگی سے نشانہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔
دفاعی نظام کیوں مشکل میں پڑتے ہیں؟
عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق جب ڈرونز کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں یا ایک ساتھ بڑی تعداد میں حملہ کرتے ہیں تو ایئر ڈیفنس سسٹمز کے لیے تمام اہداف کو بروقت نشانہ بنانا مشکل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے جدید فوجی حکمتِ عملی میں ڈرون حملوں کو روایتی دفاعی نظام کے لیے ایک چیلنج تصور کیا جاتا ہے۔
خطے میں بڑھتی ٹیکنالوجی کی دوڑ
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ برسوں میں فضائی دفاع اور ڈرون مخالف نظام (Counter-Drone Systems) کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔



