
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ): امریکہ نے ایران کے خلاف اپنے معاشی اور سفارتی دباؤ میں شدت لاتے ہوئے 30 سے زائد افراد، کمپنیوں اور غیر قانونی طور پر تیل فروخت کرنے والے بحری جہازوں کے خفیہ نیٹ ورک (Shadow Fleet) پر نئی اور سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے ‘آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول’ (OFAC) نے بدھ کے روز ان نیٹ ورکس کو بھی نشانے پر لیا ہے جو مبینہ طور پر ایران کی پاسداران انقلاب (IRGC) اور وزارت دفاع کو بیلسٹک میزائل اور دیگر جدید ہتھیار بنانے کے لیے درکار حساس آلات، خام مال اور مشینری فراہم کرتے ہیں۔
‘شیڈو فلیٹ’ کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق، ان حالیہ پابندیوں کا ایک بڑا ہدف وہ 12 بحری جہاز اور ان کے مالکان و آپریٹرز ہیں، جنہوں نے بین الاقوامی پابندیوں کو چکمہ دے کر کروڑوں ڈالر مالیت کا ایرانی تیل اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات دنیا بھر میں فروخت کیں۔
صحافتی اور بحری اصطلاح میں ‘شیڈو فلیٹ’ (Shadow Fleet) ان پرانے بحری جہازوں کے ایک ایسے غیر منظم نیٹ ورک کو کہا جاتا ہے جو بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں آنے والے ممالک (جیسے ایران) کا تیل اسمگل کرتے ہیں۔ ان جہازوں کی چند نمایاں خصوصیات یہ ہوتی ہیں:

- ان کی ملکیت کو انتہائی صیغہ راز میں رکھا جاتا ہے۔
- ان کے پاس بین الاقوامی معیار کی وہ ٹاپ ٹئیر انشورنس نہیں ہوتی جو دنیا کی بڑی آئل کمپنیوں اور بندرگاہوں کے لیے لازمی ہے۔
- یہ اکثر سمندر کے بیچوں بیچ دوسرے جہازوں میں تیل منتقل کرتے ہیں تاکہ ان کی نقل و حرکت ٹریک نہ کی جا سکے۔
صدر ٹرمپ کا سخت انتباہ اور فوجی دباؤ یہ پابندیاں ایک ایسے وقت میں لگائی گئی ہیں جب ریپبلکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی معیشت کو مفلوج کرنے کے لیے ایک جامع مہم کا آغاز کر رکھا ہے۔ منگل کی رات امریکی کانگریس سے اپنے ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ (State of the Union) خطاب میں، صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنے سخت ارادوں کو واضح کیا۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی حالیہ تعیناتی کا ذکر کرتے ہوئے تہران کو کھلی وارننگ دی کہ اگر اس نے اپنے متنازعہ جوہری پروگرام پر کوئی نیا معاہدہ نہ کیا، تو اسے ممکنہ امریکی فوجی حملے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایرانی مؤقف اور امریکی الزامات دوسری جانب، تہران نے ان نئی پابندیوں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے، تاہم ایران کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ اس کی جوہری تحقیق خالصتاً پرامن مقاصد اور شہری توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہے۔ ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے اتوار کے روز خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان اب بھی اس بات پر شدید ڈیڈلاک برقرار ہے کہ کون سی پابندیاں کب اور کیسے اٹھائی جائیں گی۔
ان پابندیوں کا جواز پیش کرتے ہوئے، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں کہا:
"ایران غیر قانونی تیل بیچنے، اس سے حاصل ہونے والی رقم کو سفید کرنے (منی لانڈرنگ)، اپنے جوہری اور روایتی ہتھیاروں کے پروگراموں کے لیے پرزے خریدنے، اور اپنی دہشت گرد پراکسیز کی مالی معاونت کے لیے عالمی مالیاتی نظام کا ناجائز استعمال کرتا ہے۔”



