
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
برسلز/واشنگٹن: نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے آئندہ ہفتے واشنگٹن کا اہم دورہ کریں گے، ایسے وقت میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ کے معاملے پر یورپی اتحادیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے نیٹو سے علیحدگی پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
نیٹو ترجمان کے مطابق یہ دورہ پہلے سے طے شدہ ہے، تاہم اس کی اہمیت اس وقت بڑھ گئی ہے جب امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان ایران سے متعلق پالیسی پر اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس حکام نے بھی اس دورے کی تصدیق کی ہے، لیکن ملاقاتوں کے ایجنڈے کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔
صدر ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں فرانس اور برطانیہ سمیت کئی یورپی اتحادیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خلیج میں آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے بحری تعاون فراہم نہیں کیا۔ ان کے مطابق کچھ اتحادی “صرف نام کے” ہیں اور مشکل وقت میں امریکہ کا ساتھ دینے میں ناکام رہے ہیں۔

امریکی صدر نے یہاں تک کہا کہ وہ نیٹو سے امریکہ کی ممکنہ علیحدگی پر غور کر رہے ہیں، جو کہ عالمی سلامتی کے ڈھانچے کے لیے ایک بڑا جھٹکا ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم نے نیٹو میں کچھ بہت برے اتحادی دیکھے ہیں، امید ہے ہمیں ان کی ضرورت ہی نہ پڑے۔”
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ نیٹو، جو 1949 میں سوویت خطرے کے مقابلے کے لیے قائم کیا گیا تھا، آج بھی مغربی دفاعی حکمت عملی کا مرکزی ستون ہے۔ ایسے میں امریکہ کی ممکنہ علیحدگی نہ صرف یورپ بلکہ عالمی سیکیورٹی کے توازن کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مارک روٹے کا یہ دورہ دونوں اطراف کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے اور مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینے کی کوشش ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران جنگ نے مغربی اتحاد کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران تنازع صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات اور اتحادوں کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔



