
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ بدھ کے روز سپریم کورٹ میں ہونے والی ایک اہم سماعت میں ذاتی طور پر شرکت کریں گے، جہاں ان کے متنازعہ فیصلے—پیدائشی شہریت محدود کرنے—سے متعلق کیس کی سماعت ہوگی۔ اگر وہ عدالت میں حاضر ہوتے ہیں تو وہ امریکی تاریخ کے پہلے حاضر سروس صدر ہوں گے جو سپریم کورٹ میں براہ راست دلائل سننے جائیں گے۔
وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق ٹرمپ اس سماعت میں شرکت کریں گے جہاں عدالتِ عظمیٰ ان کی اس اپیل پر غور کرے گی، جس میں انہوں نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس نے ان کے ایگزیکٹو آرڈر کو معطل کر دیا تھا۔ یہ حکم نامہ ان کے دوسرے دورِ صدارت کے پہلے دن جاری کیا گیا تھا۔
اس ایگزیکٹو آرڈر کے تحت یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایسے بچوں کو خودکار امریکی شہریت حاصل نہیں ہوگی جن کے والدین غیر قانونی طور پر یا عارضی حیثیت کے ساتھ امریکہ میں مقیم ہوں۔ یہ اقدام امریکی آئین کی 14ویں ترمیم اور دہائیوں سے جاری قانونی تشریح کے برعکس سمجھا جا رہا ہے، جس کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والا ہر بچہ، چند مخصوص استثناؤں کے علاوہ، شہری تصور کیا جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ اس سماعت میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں اور ممکنہ طور پر عدالت میں موجود ہوں گے۔ انہوں نے عدالت کے ججوں کے حوالے سے بھی ملا جلا ردعمل دیا، بعض کو سراہا جبکہ بعض پر تنقید کی۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کی کارروائی میں شرکت پر غور کیا ہو۔ اس سے قبل بھی انہوں نے ایک تجارتی ٹیرف سے متعلق کیس کی سماعت میں جانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، تاہم بعد میں اسے ممکنہ توجہ ہٹانے کا باعث قرار دے کر فیصلہ بدل دیا تھا۔
پیدائشی شہریت کا معاملہ ٹرمپ کی وسیع تر امیگریشن پالیسی کا حصہ ہے، جس کے تحت وہ امریکہ میں غیر قانونی ہجرت کو محدود کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان کا یہ حکم ابھی تک ملک بھر میں نافذ نہیں ہو سکا کیونکہ مختلف عدالتوں نے اسے عارضی طور پر روک رکھا ہے۔
ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ نہ صرف امریکی امیگریشن پالیسی بلکہ لاکھوں افراد کے مستقبل پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ عدالتِ عظمیٰ اس اہم کیس پر اپنا فیصلہ موسمِ گرما کے آغاز تک سنا دے گی، جس پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر کا عدالت میں خود پیش ہونا ایک غیر معمولی سیاسی اور علامتی اقدام ہے، جو اس کیس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتا ہے اور امریکی سیاست میں ایک نئی روایت قائم کر سکتا ہے۔



