ایرانتازہ ترین

ٹرمپ کا نیتن یاہو کو معافی دینے کا مطالبہ، اسرائیلی صدر کو تنقید کا نشانہ بنا دیا

واشنگٹن / (تازہ حالات رپورٹ )— امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو معافی دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ پر سخت تنقید کی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر معافی نہیں دی گئی تو یہ “شرمناک” ہوگا اور اسرائیلی عوام کو اس معاملے پر آواز اٹھانی چاہیے۔

وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے نیتن یاہو کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے جنگ کے دوران “بہترین قیادت” کا مظاہرہ کیا۔ یاد رہے کہ نیتن یاہو کو 2019 میں بدعنوانی، دھوکہ دہی اور امانت میں خیانت جیسے الزامات میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی، جن کی وہ تردید کرتے ہیں۔ وہ اسرائیل کی تاریخ کے پہلے وزیرِاعظم ہیں جو عہدے پر رہتے ہوئے فوجداری مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ٹرمپ کے بیان کے فوراً بعد اسرائیلی صدر کے دفتر نے ردعمل جاری کیا جس میں کہا گیا کہ وزیرِاعظم کی جانب سے معافی کی درخواست اس وقت وزارتِ انصاف میں قانونی رائے کے لیے زیرِ غور ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ قانونی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی صدر ہرزوگ قانون، ریاستی مفاد اور اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں گے، اور اس عمل پر کسی اندرونی یا بیرونی دباؤ کا اثر نہیں ہوگا۔

صدر ہرزوگ، جو آسٹریلیا کے چار روزہ دورے کے بعد وطن واپس آ رہے تھے، کو ٹرمپ کے بیانات پر پرواز کے دوران بریفنگ دی گئی۔ صحافیوں کے سوال پر انہوں نے مختصر جواب دیا: “جہاں تک مجھے یاد ہے، میں اسرائیل کا صدر ہوں۔” ان کا اشارہ اس جانب تھا کہ فیصلہ آئینی دائرہ اختیار کے مطابق کیا جائے گا۔

اسرائیلی قانون کے تحت صدر کو سزا یافتہ افراد کو معاف کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم کسی زیرِ سماعت مقدمے کے دوران معافی دینے کی کوئی واضح مثال موجود نہیں۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر معافی دینا غیر معمولی قدم ہوگا اور اس پر عدالتی اور سیاسی بحث چھڑ سکتی ہے۔

ادھر نیتن یاہو اور ٹرمپ کی حالیہ ملاقات میں ایران کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں سمیت خطے کی سکیورٹی صورتِ حال پر بھی بات چیت ہوئی۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا بیان نہ صرف اسرائیل کی اندرونی سیاست بلکہ واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات میں بھی نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل میں سیاسی درجہ حرارت پہلے ہی بلند ہے اور عدالتی اصلاحات و حکومتی پالیسیوں پر شدید اختلافات موجود ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر ہرزوگ قانونی مشاورت مکمل ہونے کے بعد کیا فیصلہ کرتے ہیں، اور اس کا اسرائیلی سیاست پر کیا اثر پڑتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button