
واشنگٹن (تازہ حالات رپورٹ )— مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل تیزی سے گہرے ہو رہے ہیں اور خطے میں امریکی افواج کی غیر معمولی نقل و حرکت جاری ہے۔ ایسے میں ایک تشویشناک خبر سامنے آئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فیصلہ کن فوجی کارروائی کے محدود آپشنز پر شدید مایوسی کا شکار ہو گئے ہیں، جبکہ دوسری جانب تہران میں حکومت مخالف مظاہروں کو کچلنے کے لیے مشین گن بردار گاڑیوں کی تعیناتی نے خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
ٹرمپ کی ‘تباہ کن’ حملے کی خواہش اور مایوسی امریکی نشریاتی ادارے ‘سی بی ایس نیوز’ (CBS News) نے اندرونی ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ صدر ٹرمپ امریکی فوجی طاقت کے محدود استعمال اور ایران کے خلاف فیصلہ کن عسکری آپشنز کی کمی پر اپنے مشیروں سے خاصے نالاں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ عسکری حکام سے ایک ایسے ‘تباہ کن اور زوردار’ حملے کا مطالبہ کر رہے ہیں جو نہ صرف سفارتی بساط کو یکسر الٹ دے، بلکہ تہران کو گھٹنوں کے بل بیٹھ کر واشنگٹن کی شرائط پر دوبارہ مذاکرات کرنے پر مجبور کر دے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے انتہائی اہم وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ اپنے سالانہ ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ خطاب کی تیاری کر رہے ہیں، جس میں توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ایران کے حوالے سے کوئی بڑی اور سخت پالیسی کا اعلان کر سکتے ہیں۔
تہران یونیورسٹی کے باہر مشین گنوں کی تعیناتی ایک طرف واشنگٹن میں حملے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے تو دوسری جانب ایران کے اندرونی حالات بھی انتہائی کشیدہ ہیں۔ ایرانی اپوزیشن کے نشریاتی ادارے ‘ایران انٹرنیشنل’ نے رات گئے ایک تشویشناک تصویر جاری کی ہے جس میں تہران یونیورسٹی کے قریب ہونے والے مظاہروں کے مقام پر ایک مشین گن نصب فوجی گاڑی کو گشت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ منظر اس بات کی واضح غمازی کرتا ہے کہ ایرانی حکومت کسی بھی قسم کی اندرونی بغاوت یا احتجاج کو سختی سے کچلنے کے لیے پوری طرح متحرک ہو چکی ہے۔

امریکی جرنیلوں کا انتباہ: "ایران کوئی معمولی ہدف نہیں” وائٹ ہاؤس کے اندرونی اجلاسوں میں پینٹاگون کے اعلیٰ فوجی حکمت عملی سازوں نے صدر ٹرمپ کو واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملہ، وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کو ہٹانے جیسی کوئی یک طرفہ، مختصر یا آسان کارروائی نہیں ہوگا۔
عسکری ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ ایران کی عسکری تنصیبات پر کیا گیا ایک محدود اور نپا تلا حملہ بھی ایک بڑی علاقائی جنگ کی چنگاری بھڑکا سکتا ہے۔ فوجی کمانڈرز کو خدشہ ہے کہ کوئی بھی عجلت پر مبنی قدم امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ کے ایک طویل، پیچیدہ اور تباہ کن تنازعے میں دھکیل سکتا ہے، جس کے نتائج قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی فوجی قیادت صدر کو انتہائی احتیاط برتنے کا مشورہ دے رہی ہے۔



