تازہ ترینچین

ٹرمپ کے ممکنہ دورۂ چین سے بڑی پیش رفت کا امکان کم، مقصد تعلقات میں استحکام برقرار رکھنا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ماہ متوقع دورۂ چین سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات میں کسی بڑی پیش رفت کی توقع کم ظاہر کی جا رہی ہے۔ تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق اس ملاقات کا بنیادی مقصد دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان کشیدگی کو قابو میں رکھتے ہوئے تعلقات میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ممکنہ سربراہی ملاقات مارچ کے آخر میں متوقع ہے۔ یہ ملاقات اس وقت ہو رہی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ برس ٹیرف، ٹیکنالوجی پابندیوں اور نایاب معدنیات (Rare Earths) کی برآمدات جیسے مسائل پر شدید تناؤ دیکھنے میں آیا تھا۔

بڑی پیش رفت کے امکانات محدود

سفارتی تیاریوں سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اس ملاقات سے کسی بڑے تجارتی معاہدے یا سرمایہ کاری کے نئے فریم ورک کی توقع کم ہے۔ امریکی کمپنیوں کے کئی سربراہان اس امید میں تھے کہ اس دورے میں انہیں بھی ایک کاروباری وفد کے طور پر شامل کیا جائے گا، تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی واضح فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب بیجنگ بھی اپنی کمپنیوں کے لیے امریکہ میں سرمایہ کاری کے حوالے سے سکیورٹی ضمانتیں چاہتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب امریکہ میں ٹک ٹاک سمیت بعض چینی کمپنیوں پر پابندیوں اور فروخت کے دباؤ جیسے اقدامات سامنے آئے ہیں۔

ممکنہ بوئنگ معاہدہ

اس ملاقات میں ایک ممکنہ پیش رفت بوئنگ طیاروں کی خریداری سے متعلق معاہدہ ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق چین امریکی کمپنی بوئنگ سے تقریباً 500 مسافر طیارے خریدنے پر غور کر رہا ہے، تاہم اس کے بدلے بیجنگ طویل مدتی پرزہ جات اور تکنیکی تعاون کی ضمانتیں چاہتا ہے۔

اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں ایک اہم علامتی پیش رفت سمجھا جا سکتا ہے، اگرچہ ان طیاروں کی فراہمی ممکنہ طور پر اگلی دہائی تک جاری رہے گی۔

تجارتی کشیدگی برقرار

دوسری جانب ٹیرف اور تجارتی پابندیاں اب بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ امریکی سپریم کورٹ حال ہی میں چین پر عائد بعض اضافی ٹیرف کو کالعدم قرار دے چکی ہے، تاہم واشنگٹن انہیں نئے قانونی طریقے کے تحت دوبارہ نافذ کرنے پر غور کر رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اس سربراہی ملاقات کا مقصد تجارتی جنگ کو مزید بڑھانا نہیں بلکہ موجودہ معاہدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا اور معاشی تعلقات کو مکمل طور پر بگڑنے سے بچانا ہے۔

عالمی معیشت پر اثرات

ماہرین کے مطابق امریکہ اور چین کے تعلقات عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں کیونکہ دونوں ممالک مل کر دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقتیں سمجھے جاتے ہیں۔ اگر ان کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات عالمی تجارت، توانائی کی منڈیوں اور سرمایہ کاری پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

اسی لیے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس ملاقات سے فوری طور پر کوئی بڑا معاہدہ سامنے نہ بھی آئے، تب بھی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے برقرار رہنا عالمی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جائے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button