ایرانتازہ ترینترکیمشرق وسطی

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل: ٹرمپ کی ایران کو آخری وارننگ، روس اور چین کی انٹری

تہران/واشنگٹن/تل ابیب: مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر بارود کے ڈھیر پر آ کھڑی ہوئی ہے۔ امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو سخت ترین دھمکیوں اور خطے میں بڑی فوجی نقل و حرکت نے تیسری عالمی جنگ کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ ایک طرف امریکی بحری بیڑے ایران کی جانب گامزن ہیں، تو دوسری طرف ایران نے روس اور چین کے ساتھ مل کر سمندروں میں طاقت کا مظاہرہ شروع کر دیا ہے۔


ٹرمپ کی ‘سرنڈر یا جنگ’ کی پالیسی

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ "وقت ختم ہو رہا ہے”۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کا ایک بہت بڑا بحری بیڑہ، جو وینزویلا مشن سے بھی زیادہ طاقتور ہے، ایران کی جانب روانہ ہو چکا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ:

"ہمارے پاس دنیا کے سب سے طاقتور جنگی جہاز ہیں اور وہ پہلے ہی خطے میں موجود ہیں۔ اگر ایران معاہدہ کر لیتا ہے تو یہ سب کے لیے اچھا ہوگا، ورنہ نتائج کا ذمہ دار ایران خود ہوگا۔”

جب صحافیوں نے ٹرمپ سے ایران کو دی گئی کسی مخصوص ‘ڈیڈ لائن’ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے معنی خیز انداز میں کہا کہ "یہ بات صرف ایران ہی جانتا ہے”۔

سفارتی محاذ پر ہلچل: لاریجانی کا مشن ماسکو

ایرانی سپریم لیڈر کے مشیرِ اعلیٰ علی لاریجانی ایک بار پھر ہنگامی دورے پر ماسکو پہنچ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایران روس سے جدید دفاعی نظام اور انٹیلی جنس تعاون کی اپیل کر رہا ہے۔ تہران کو توقع ہے کہ اگر امریکہ یا اسرائیل حملہ کرتے ہیں تو روس اور چین خاموش نہیں رہیں گے۔ ایران، روس اور چین کی مشترکہ بحری مشقوں نے امریکی کمانڈ (CENTCOM) کو بھی الرٹ کر دیا ہے، جس نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔


ترکی کا ایران کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان

ایک ایسے وقت میں جب ایران پر دباؤ بڑھ رہا ہے، ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایران کی حمایت کا اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔ انقرہ میں ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد ترک صدر نے واضح کیا کہ وہ خطے میں کسی نئی جنگ کے حق میں نہیں ہیں اور ترکی مشکل وقت میں ایران کی مدد کرے گا۔ ایرانی حکام نے اس مشکل گھڑی میں ترکی کے موقف کو سراہا ہے۔

سعودی عرب کا موقف: متضاد دعوے

اسرائیلی میڈیا اور معروف صحافی باراک رویڈ (Axios) نے ایک سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے واشنگٹن میں تھنک ٹینک ماہرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر اب حملہ نہ ہوا تو وہ مزید طاقتور ہو جائے گا۔ تاہم، اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اپنی فضائی حدود ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ دوسری جانب، فنانشل ٹائمز کا دعویٰ ہے کہ عرب اور مسلم ممالک کے حکام پسِ پردہ ایران پر حملے کو رکوانے کی کوششیں کر رہے ہیں تاکہ خطہ بڑی تباہی سے بچ سکے۔


اسرائیل کے لیے امریکی اسلحے کی بارش

ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کی جنگی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے ریکارڈ 12 ارب ڈالر کے اسلحے کی فراہمی مکمل کر لی ہے۔ صرف حالیہ چند دنوں میں 6.5 ارب ڈالر کے اضافی ہتھیاروں کی منظوری دی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ نے اسی دوران سعودی عرب کے لیے بھی 9 ارب ڈالر کے اسلحے کی منظوری دی ہے، جس سے خطے میں توازنِ طاقت برقرار رکھنے یا نئے اتحاد بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ایران کا ردِعمل: "ہم تیار ہیں”

ایرانی سپریم لیڈر کے ایک اور اہم مشیر علی شمخانی نے تسنیم نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہماری تیاری مکمل ہے”۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران پر کسی بھی حملے کا جواب اتنی قوت سے دیا جائے گا کہ دشمن اسے کبھی بھلا نہیں پائے گا۔


موجودہ صورتحال کا تجزیہ

مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے وزیر داخلہ اور ایرانی تاجروں پر نئی پابندیاں اور دوسری طرف مارکو روبیو کے یو اے ای حکام سے رابطے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ ایران کو معاشی اور سفارتی طور پر تنہا کر کے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کو یقین ہے کہ اس بار حملہ ناگزیر ہے اور حتمی فیصلہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button