امریکاتازہ ترین

ٹرمپ کی ایران کو آخری وارننگ! صرف 48 گھنٹے باقی، کیا جنگ ہونے والی ہے؟

(تازہ حالات رپورٹ )

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری معاہدے سے متعلق ایک تفصیلی تحریری تجویز پیش کرنے کے لیے مبینہ طور پر 48 گھنٹوں کی مہلت دے دی ہے۔ امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق اگر تہران مقررہ وقت میں اپنی تجویز پیش کرتا ہے تو جمعہ کو جنیوا میں مذاکرات کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ واشنگٹن اس وقت ایرانی مسودے کا انتظار کر رہا ہے۔ امریکی حکام کے نزدیک یہ سفارتی کوشش صدر ٹرمپ کی جانب سے دیا جانے والا "آخری موقع” ہو سکتا ہے، جس کے بعد امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ فوجی کارروائی سمیت سخت آپشنز زیرِ غور آ سکتے ہیں۔

"زیرو انرشمنٹ” شرط برقرار

ذرائع کے مطابق امریکی مؤقف بدستور یہ ہے کہ ایران اپنی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر بند کرے۔ تاہم بعض امریکی اہلکاروں نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ایران محدود یا علامتی سطح پر افزودگی کی ایسی تجویز دیتا ہے جو ایٹمی ہتھیار کی تیاری کا راستہ مکمل طور پر بند کر دے، تو اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔

امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر کے جنیوا پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، بشرطیکہ ایرانی تجویز بروقت پیش ہو جائے۔ اطلاعات کے مطابق فریقین کسی عبوری معاہدے پر بھی بات کر سکتے ہیں، جس کے بعد جامع سمجھوتے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

تہران کا مؤقف

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایران اپنی تجویز کو حتمی منظوری کے بعد امریکی فریق کو پیش کرے گا۔ ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ کسی بھی معاہدے میں پابندیوں کے خاتمے کی واضح اور قابلِ عمل ضمانت ضروری ہے۔

فوجی آپشن زیرِ غور؟

رپورٹس کے مطابق اگر سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو واشنگٹن میں سخت اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ بعض امریکی سیاست دان، خصوصاً ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم، صدر ٹرمپ پر زور دے رہے ہیں کہ ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا جائے۔ تاہم ٹرمپ کے قریبی مشیروں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے سفارتی راستہ مکمل طور پر آزمانا چاہتے ہیں۔

خطے میں پہلے ہی امریکی بحری اور فضائی اثاثے تعینات ہیں، جس کے باعث کشیدگی عروج پر ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دو سے تین دن نہ صرف جوہری مذاکرات بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال کے لیے بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button