
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی نمائندے اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے مرکزی کردار اسٹیو وٹکوف ان دنوں تنقید اور سوالات کی زد میں ہیں۔ مبصرین اور کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات نے ایران سے متعلق مذاکرات کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسٹیو وٹکوف طویل عرصے سے اسرائیل کے حامی سمجھے جاتے ہیں اور ان کے اسرائیل نواز بااثر شخصیات سے قریبی روابط ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ معروف اسرائیل حامی کاروباری شخصیت اور بڑی سیاسی عطیہ دہندہ میریئم ایڈلسن کو اپنی قریبی دوست قرار دیتے ہیں۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ انہوں نے 2024 کے امریکی صدارتی انتخاب کے دوران ٹرمپ کی مہم کے لیے اسرائیل حامی حلقوں سے بڑی مالی معاونت جمع کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
اس کے علاوہ بتایا جاتا ہے کہ وٹکوف کے پاس ایک خصوصی پیجر بھی ہے جو انہیں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور موساد کے اعلیٰ حکام کی جانب سے تحفے میں دیا گیا تھا۔ اس پیجر کو ایک ایسی اسرائیلی خفیہ کارروائی کی یادگار کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس کا تعلق حزب اللہ کے خلاف آپریشن سے جوڑا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران اور جنگ کے آغاز سے قبل اسٹیو وٹکوف اسرائیلی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔ ان رابطوں میں وزیر اعظم نیتن یاہو اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ بھی شامل تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی حساس سفارتی عمل میں مذاکرات کار کی غیر جانبداری کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے وٹکوف کے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات کو بعض حلقے ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے تناظر میں متنازع قرار دے رہے ہیں۔
تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کا بنیادی مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم کو روکنا تھا۔ دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ سیاسی صورتحال میں مختلف فریقوں سے روابط رکھنا سفارتی عمل کا ایک معمول کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں ایسے الزامات آئندہ سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں اور اس بات کو مزید اہم بنا دیتے ہیں کہ مذاکراتی عمل شفاف اور قابلِ اعتماد ہو۔



