
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ):
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور Iran کے خلاف فوجی کارروائیوں کے باوجود ایک سوال عالمی سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث ہے: امریکی صدر Donald Trump نے اس بار ایران کے تیل کا ذکر کیوں نہیں کیا؟
ماضی میں ٹرمپ اکثر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ جنگی مداخلت کے بدلے امریکا کو متعلقہ ملک کے قدرتی وسائل، خاص طور پر تیل، سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے مختلف مواقع پر Iraq، Syria اور Venezuela کے تیل کے حوالے سے ایسے بیانات دیے تھے کہ امریکا کو جنگی اخراجات کے بدلے ان وسائل سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔
تاہم حالیہ ایران جنگ کے دوران صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تیل کے بارے میں ایسی کوئی واضح بات سامنے نہیں آئی، حالانکہ ایران دنیا کے بڑے تیل ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اندازوں کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 209 ارب بیرل سے زائد تیل کے ثابت شدہ ذخائر موجود ہیں، جو عالمی مجموعی ذخائر کا تقریباً 12 فیصد بنتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس خاموشی کی کئی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک بڑی وجہ موجودہ جنگ کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال ہے۔ خلیج کی اہم سمندری گزرگاہ Strait of Hormuz کے متاثر ہونے سے عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور سپلائی چین بھی دباؤ کا شکار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکی قیادت کھل کر ایران کے تیل پر قبضے یا کنٹرول کی بات کرتی ہے تو اس سے خطے میں سیاسی ردعمل مزید شدید ہو سکتا ہے اور عالمی سطح پر بھی امریکا پر تنقید بڑھ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایران کی موجودہ سیاسی صورتحال اور جنگی مزاحمت کے باعث کسی بھی بیرونی طاقت کے لیے وہاں کے تیل کے ذخائر تک عملی رسائی آسان نہیں ہوگی۔
بعض مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ماضی کی تاریخی مثالیں، خاص طور پر 1953 میں ایران میں حکومت کی تبدیلی کے واقعات اور اس کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی، امریکی پالیسی سازوں کے لیے ایک حساس پس منظر فراہم کرتی ہیں۔ اسی لیے موجودہ صورتحال میں واشنگٹن زیادہ محتاط انداز اپناتا دکھائی دیتا ہے۔
دوسری جانب جنگ کے اثرات عالمی توانائی مارکیٹ پر پہلے ہی نمایاں ہو چکے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور خلیج میں جہاز رانی کے خدشات نے عالمی معیشت اور ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جنگ کے دوران تیل کا معاملہ ایک حساس جیوپولیٹیکل موضوع بن چکا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن فی الحال اس پر کھل کر بات کرنے سے گریز کر رہا ہے۔



