ایران پر ٹرمپ کی سخت شرائط، مسقط مذاکرات غیر یقینی؛ امریکا کی حکمتِ عملی پر سوالات

واشنگٹن/مسقط — امریکا اور ایران کے درمیان سلطنتِ عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے والے تازہ مذاکرات غیر یقینی صورتحال کا شکار دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے سامنے سخت اور ہمہ جہتی شرائط رکھ رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن کا مجموعی اسٹریٹجک مقصد واضح نہیں، جس کے باعث بات چیت آگے بڑھانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ مذاکرات جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد پہلی براہِ راست ملاقات ہیں۔ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں ابتدا میں جوہری معاہدے پر نئے سرے سے بات چیت کی کوشش کی گئی، تاہم اسرائیل اور ایران کے درمیان بارہ روزہ جنگ اور اس کے بعد امریکی کارروائیوں نے اس عمل کو متاثر کیا۔

امریکی ماہرِ امورِ مشرقِ وسطیٰ سینا آزودی کے مطابق واشنگٹن یہ سمجھتا ہے کہ ایران اس وقت دباؤ میں ہے، اسی لیے امریکا زیادہ سے زیادہ رعایتیں لینے کے لیے سخت شرائط کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آیا ہے۔ ان شرائط میں صرف جوہری پروگرام ہی نہیں بلکہ بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندیاں اور خطے میں ایران کے اتحادی گروہوں کی حمایت کا خاتمہ بھی شامل ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا بات چیت کے لیے تیار ہے، مگر بامعنی نتائج کے لیے میزائل پروگرام، مبینہ دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی گفتگو ضروری ہو گی۔ ان بیانات کے بعد یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ واشنگٹن محض جوہری معاملے تک محدود رہنا نہیں چاہتا۔

دوسری جانب ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو انٹرویوز میں ایک بار پھر ایران کو دھمکی دی اور کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر کو “فکر مند ہونا چاہیے”، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی دو بنیادی ترجیحات ہیں: ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے اور مظاہرین کے خلاف تشدد بند ہو۔
ایران مسلسل اس مؤقف پر قائم ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ایران نے 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت افزودگی محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، مگر امریکا 2018 میں اس معاہدے سے دستبردار ہو گیا تھا۔ بین الاقوامی تجزیہ کار علی واعظ کے مطابق یہ واضح نہیں کہ امریکا واقعی صرف جوہری مسئلے پر بات کرنا چاہتا ہے یا مکمل سرنڈر جیسی شرائط رکھ رہا ہے، جس سے مذاکرات میں “حرکت کرتی ہوئی ریڈ لائنز” پیدا ہو رہی ہیں۔
خطے کے تناظر میں خلیجی ممالک کشیدگی کم کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ امریکا کے خطے میں متعدد فوجی اڈے موجود ہیں اور ماضی میں ایران کی جانب سے امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی ہو چکے ہیں۔ ایران کے رہبر علی خامنہ ای خبردار کر چکے ہیں کہ کسی بھی حملے کا نتیجہ علاقائی جنگ ہو سکتا ہے۔
ادھر اسرائیلی قیادت امریکا پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں میزائل پروگرام کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ اسی ہفتے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات بھی کی، جس میں ایران کے خلاف سخت مؤقف پر زور دیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں فریق بظاہر کشیدگی کم کرنا چاہتے ہیں، لیکن دھمکیوں، فوجی تیاریوں اور غیر واضح اہداف کی موجودگی میں معمولی غلطی بھی بڑے تصادم میں بدل سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں مسقط مذاکرات یہ طے کریں گے کہ آیا سفارتکاری آگے بڑھتی ہے یا خطہ ایک نئی کشیدگی کی طرف بڑھتا ہے۔



