
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )لبنان کے مشرقی علاقوں میں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ لبنانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیلی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سرحدی پہاڑی علاقوں میں فوجی دستے اتارنے کی کوشش کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق یہ جھڑپیں لبنان کے علاقے نبی شیت اور اس کے اطراف میں پیش آئیں، جو شام کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے مشرقی پہاڑی سلسلے کی چوٹیوں کے قریب لینڈنگ کی اور لبنانی حدود کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی، جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔
حزب اللہ سے منسلک ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جھڑپوں کے دوران ایک اسرائیلی ہیلی کاپٹر مار گرایا گیا۔ اس ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ہیلی کاپٹر کو بعلبک کے پہاڑی علاقے میں نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔

اسی دوران عرب میڈیا نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ تقریباً 15 اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے شام کی سرحد کے قریب واقع سرگایا کے میدان میں فوجی دستے اتارے تھے۔ حزب اللہ کے مطابق اس نے ان دستوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے فائرنگ کی، جس کے بعد علاقے میں جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
اسرائیلی فوج نے ان تازہ جھڑپوں پر فوری طور پر کوئی تفصیلی تبصرہ نہیں کیا، تاہم اسرائیلی ذرائع کے مطابق ماضی میں بھی اس علاقے میں خصوصی کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں اسرائیلی فضائیہ کے خصوصی دستوں نے لبنان کے علاقے بقاع میں ایک خفیہ کارروائی کی تھی جس کا مقصد اسرائیلی پائلٹ رون آراد سے متعلق ممکنہ معلومات یا باقیات تلاش کرنا تھا۔ رون آراد 1986 میں لبنان میں لاپتہ ہو گئے تھے اور اسرائیل کئی دہائیوں سے ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لبنان کے سرحدی علاقوں میں جھڑپیں بڑھتی ہیں تو یہ تنازع ایران۔اسرائیل جنگ کے ساتھ ساتھ ایک نیا محاذ کھول سکتا ہے، جس سے پورے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔



