
تازہ حالات رپورٹ
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور یونان کے وزیرِاعظم کیریاکوس مِتسوتاکِس نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ایجیئن سمندر اور مشرقی بحیرۂ روم میں سمندری حدود اور خصوصی اقتصادی زون کے معاملات پر کھلے اور مخلصانہ انداز میں تبادلۂ خیال ہوا۔ صدر اردوان نے کہا کہ اگرچہ مسائل پیچیدہ ہیں، لیکن بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر ان کا حل ممکن ہے۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے ہدف کا بھی اعادہ کیا۔
یونانی وزیرِاعظم نے کہا کہ “اگر اب نہیں تو پھر کب؟” اور زور دیا کہ جغرافیہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا، مگر اسے تنازع کے بجائے تعاون کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم پس منظر میں اختلافات اب بھی موجود ہیں۔ یونان کی جانب سے علاقائی پانیوں میں ممکنہ توسیع کے بیان کے بعد ترکی نے ایجیئن کے بعض علاقوں میں تحقیقاتی سرگرمیوں کے لیے ہم آہنگی پر زور دیا ہے۔ یاد رہے کہ 1995 میں ترک پارلیمنٹ نے یونان کی جانب سے یکطرفہ طور پر سمندری حدود چھ ناٹیکل میل سے بڑھانے کو جنگ کا سبب قرار دیا تھا، جسے ایتھنز بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیتا ہے۔
ملاقات میں غیر قانونی ہجرت کا مسئلہ بھی زیرِبحث آیا۔ یونانی وزیرِاعظم کے مطابق گزشتہ سال ایجیئن میں تارکینِ وطن کی آمد میں تقریباً 60 فیصد کمی آئی، جسے دونوں ممالک کے تعاون کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ حالیہ دنوں ایک کشتی حادثے میں متعدد مہاجرین کی ہلاکت نے اس مسئلے کو دوبارہ اجاگر کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سفارتی رابطے مثبت اشارہ ضرور ہیں، مگر سمندری حدود، توانائی کے وسائل اور فضائی حدود جیسے حساس معاملات پر حتمی پیش رفت کے لیے مسلسل سیاسی عزم اور اعتماد سازی کی ضرورت ہو گی۔ اس ملاقات کو خطے میں استحکام کی جانب ایک محتاط مگر اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

تجارت اور اقتصادی تعاون
دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ ماہرین کے مطابق اقتصادی روابط میں اضافہ سیاسی اعتماد سازی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یورپ اور مشرقی بحیرۂ روم میں توانائی کے نئے راستوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
مہاجرین اور سرحدی نگرانی
ایجیئن سمندر کے راستے یورپ جانے والے مہاجرین کا مسئلہ بھی زیرِبحث آیا۔ یونانی وزیرِاعظم کے مطابق گزشتہ سال مہاجرین کی آمد میں تقریباً 60 فیصد کمی آئی، جسے دونوں ممالک کے تعاون کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ تاہم حالیہ کشتی حادثات نے اس مسئلے کی سنگینی کو برقرار رکھا ہے۔ ترکی کا مؤقف ہے کہ یورپی یونین کو 2016 کے مہاجر معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں، جبکہ یونان سرحدی نگرانی مزید سخت کرنے پر زور دیتا ہے۔

پس منظر میں باقی اختلافات
اگرچہ ملاقات کا لہجہ مثبت رہا، لیکن زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ یونان کی جانب سے علاقائی پانیوں میں ممکنہ توسیع کے بیان پر ترکی نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماضی میں ترک پارلیمنٹ یونان کی ایسی کسی بھی یکطرفہ توسیع کو جنگ کا سبب قرار دے چکی ہے۔
علاقائی اور عالمی تناظر
ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکی اور یونان کے تعلقات کا اثر صرف دوطرفہ نہیں بلکہ نیٹو، یورپی یونین اور مشرقی بحیرۂ روم کی مجموعی سیکیورٹی پر بھی پڑتا ہے۔ حالیہ پیش رفت کو ایک مثبت اشارہ ضرور سمجھا جا رہا ہے، مگر پائیدار حل کے لیے مسلسل مذاکرات، اعتماد سازی اور عملی اقدامات ناگزیر ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ سفارتی رفتار برقرار رہی تو دونوں ممالک تاریخی اختلافات کے باوجود ایک نئے باب کا آغاز کر سکتے ہیں، جو خطے میں استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔



