روس نے غزہ جیسی سرنگیں بنا لیں – یورپ پریشان

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )یورپ میں غیر قانونی تارکین وطن کے داخلے کے حوالے سے ایک انتہائی حیران کن اور سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔ برطانوی اخبار ‘ڈیلی ٹیلی گراف’ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، پولینڈ کے سرحدی حکام نے بیلاروس سے پولینڈ میں تارکین وطن کو اسمگل کرنے کے لیے استعمال ہونے والی کئی خفیہ زیرِ زمین سرنگیں دریافت کی ہیں۔ مغربی عسکری حکام کو شبہ ہے کہ ان سرنگوں کی تعمیر میں مشرق وسطیٰ کی عسکری تنظیموں، خاص طور پر حماس اور حزب اللہ کے ماہرین نے روس اور بیلاروس کی مدد کی ہے۔
خفیہ سرنگوں کی دریافت اور تفصیلات پولش بارڈر گارڈ کی لیفٹیننٹ کرنل کیٹرینا زڈانووچ نے انکشاف کیا ہے کہ 2025 کے دوران بیلاروس کی سرحد کے نیچے سے اب تک چار خفیہ سرنگیں دریافت ہو چکی ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑی اور پیچیدہ سرنگ وسط دسمبر میں مشرقی گاؤں ‘نریوکا’ (Narewka) کے قریب دریافت ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق، اس سرنگ کی تفصیلات کچھ یوں ہیں:
- لمبائی اور چوڑائی: یہ سرنگ تقریباً 60 میٹر (تقریباً 200 فٹ) طویل اور 1.5 میٹر (5 فٹ) اونچی ہے۔
- خفیہ راستہ: اس کا داخلی راستہ بیلاروس کی حدود میں ایک گھنے جنگل میں چھپایا گیا تھا، جبکہ اس کا اخراجی راستہ پولینڈ کی حدود میں 10 میٹر اندر جا کر کھلتا تھا۔
- تارکین وطن کی اسمگلنگ: مبینہ طور پر اس سرنگ کے ذریعے اب تک 180 کے قریب تارکین وطن کو اسمگل کیا گیا، جن میں اکثریت کا تعلق افغانستان اور پاکستان سے تھا۔ تاہم، پولینڈ کی سیکیورٹی فورسز نے ان میں سے بیشتر افراد کو سرنگ سے نکلتے ہی حراست میں لے لیا۔

مشرق وسطیٰ کی تنظیموں کے ملوث ہونے کا شبہ برطانوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے عسکری ماہرین نے بتایا کہ سرنگوں کی تعمیر کا یہ جدید اور پیچیدہ طریقہ کار انھی تنظیموں سے مشابہت رکھتا ہے جو مشرق وسطیٰ میں سرنگیں بنانے کے لیے جانی جاتی ہیں۔ ان میں حماس، فلسطین اسلامک جہاد (PIJ) اور لبنان کی حزب اللہ شامل ہیں۔
امریکی عسکری مؤرخ لینیٹ نوسبیچر (Lynette Nusbacher) کے مطابق، یہ قیاس کرنا بالکل منطقی ہے کہ اس کارروائی میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیمیں ملوث ہو سکتی ہیں۔ برطانوی فوج کے قلعہ بندیوں کے ماہر روب کیمبل نے بھی فوٹیج کا جائزہ لینے کے بعد حماس یا اسلامک جہاد کے ملوث ہونے کے امکان کو ظاہر کیا ہے۔ تاہم، آزادانہ ذرائع سے ابھی ان دعووں کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
روس کی ‘ہائبرڈ وارفیئر’ اور جغرافیائی سیاست (تجزیاتی پہلو) سفارتی اور دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بیلاروس کی جانب سے اپنی سرزمین پر ایسی سرنگیں بنانے کی اجازت دینا دراصل روس کی یورپ کے خلاف اس ‘ہائبرڈ وارفیئر’ (Hybrid Warfare) کا حصہ ہے، جس کا مقصد یوکرین کی حمایت کرنے پر مغربی ممالک کو سزا دینا ہے۔

واضح رہے کہ بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے قریبی اتحادی ہیں۔ روس پر یوکرین حملے میں بیلاروس کی سرزمین استعمال کرنے اور 2020 کے مظاہروں کو سختی سے کچلنے پر یورپی یونین کی جانب سے بیلاروس پر کڑی پابندیاں عائد ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ان پابندیوں اور یوکرین جنگ کے جواب میں، روس اور بیلاروس یورپ میں سائبر حملوں، تخریب کاری اور تارکین وطن کے بحران کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
پولینڈ کے حفاظتی اقدامات اور سرحدی کشیدگی روس کے یوکرین پر باقاعدہ حملے سے قبل بھی بیلاروس پر الزام تھا کہ وہ ہزاروں تارکین وطن کو پولینڈ کی سرحد کی طرف دھکیل کر یورپی یونین پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے پولینڈ نے سرحد پر 200 کلومیٹر طویل حفاظتی دیوار تعمیر کی ہے جو سینکڑوں جدید سرویلنس کیمروں سے لیس ہے۔
علاوہ ازیں، علاقائی حکام کے مطابق، بیلاروس پر حال ہی میں لتھوانیا کی جانب اسمگلنگ کے ہزاروں غبارے چھوڑنے کا بھی الزام ہے، جس کی وجہ سے ولنیئس (Vilnius) اور کاوناس (Kaunas) کے ہوائی اڈوں پر فضائی آپریشنز میں شدید خلل پڑا تھا۔



