
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکی محکمہ دفاع Pentagon کے اندر جاری مباحث سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن اپنے اتحادیوں، خاص طور پر NATO کے بعض رکن ممالک کے رویے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے، جو ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی میں فعال کردار ادا نہیں کر رہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی حکام اس بات پر مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں کہ کچھ یورپی ممالک فوجی تعاون کے بجائے صرف سفارتی مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں، جبکہ امریکا خطے میں زیادہ براہِ راست دباؤ اور کارروائی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اسی تناظر میں اتحادیوں پر دباؤ بڑھانے کے مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ممکنہ اقدامات میں مشترکہ فوجی مشقوں میں کمی، دفاعی تعاون کے پروگرام محدود کرنا، انٹیلی جنس شیئرنگ میں کمی یا اقتصادی و سفارتی دباؤ شامل ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ تجاویز ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں، لیکن ان پر سنجیدہ سطح پر بحث جاری ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا واقعی اس سمت میں قدم اٹھاتا ہے تو اس کے اثرات نیٹو اتحاد پر دور رس ہو سکتے ہیں۔ یہ اتحاد گزشتہ کئی دہائیوں سے مغربی سیکیورٹی کا بنیادی ستون رہا ہے، تاہم حالیہ عالمی تنازعات نے اس کے اندر پالیسی اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے حوالے سے مختلف ممالک کے مفادات اور ترجیحات ایک جیسی نہیں ہیں۔ بعض یورپی ممالک خطے میں مزید کشیدگی سے بچنا چاہتے ہیں، کیونکہ اس کے براہِ راست اثرات ان کی معیشت، توانائی کی سپلائی اور داخلی سیکیورٹی پر پڑ سکتے ہیں۔
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی سطح پر اتحاد اب پہلے کی طرح یکساں مؤقف پر قائم نہیں رہے، بلکہ ہر ملک اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کر رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا امریکا اور اس کے اتحادی اس اختلاف کو کم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا یہ خلیج مزید وسیع ہو جاتی ہے۔



