ترکی۔سعودی دفاعی شراکت داری مضبوط، “گوک بے” ہیلی کاپٹر کی مشترکہ پیداوار طے

تازہ حالات رپورٹ: ریاض: ترکی اور سعودی عرب نے دفاعی صنعت کے شعبے میں تعاون کو نئی سطح پر لے جاتے ہوئے “گوک بے(GÖKBEY) ہیلی کاپٹر کی مشترکہ تیاری کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ معاہدہ ورلڈ ڈیفنس شو 2026 کے موقع پر دارالحکومت ریاض میں طے پایا۔
ترک ایرو اسپیس انڈسٹریز (TAI) اور سعودی وزارتِ سرمایہ کاری کے ساتھ جنرل اتھارٹی فار ملٹری انڈسٹریز کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ ترکی کی دفاعی ٹیکنالوجی کی برآمدات کے ایک نئے مرحلے کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے تحت نہ صرف ہیلی کاپٹر کی مقامی سطح پر تیاری کا راستہ ہموار ہوگا بلکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سعودی عرب میں صنعتی ڈھانچے کی تعمیر بھی ممکن بنائی جائے گی۔

معاہدے کی اہم شقیں کیا ہیں؟
معاہدے کے مطابق:
سعودی فریق فوجی اور سویلین دونوں مقاصد کے لیے ضروریات کا تعین کرے گا۔
طلب اور آپریشنل تقاضوں کی بنیاد پر ہیلی کاپٹر کے ماڈلز اور آلات کا انتخاب کیا جائے گا۔
ترک کمپنی سعودی عرب میں ایک مقامی شراکت دار کے ساتھ مل کر پیداوار کا عمل شروع کرے گی۔
شراکت داری کی مکمل تفصیلات عملی ضروریات کے مطابق طے کی جائیں گی۔
پس منظر اور اسٹریٹجک اہمیت
ترک ایرو اسپیس کے جنرل منیجر مہمت دیمیر اوغلو اس سے قبل اشارہ دے چکے تھے کہ ریاض کے ساتھ مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ صرف ایک ہیلی کاپٹر تک محدود نہیں بلکہ سعودی عرب کے طویل المدتی صنعتی وژن اور ٹیکنالوجی لوکلائزیشن کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تعاون ترکی کے جدید لڑاکا طیارہ پروگرام “KAAN” سمیت دیگر دفاعی منصوبوں میں ممکنہ اشتراک کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
“گوک بے” ہیلی کاپٹر کی صلاحیتیں
گوک بے ایک ملٹی مشن ہیلی کاپٹر ہے جو مشکل موسمی اور جغرافیائی حالات میں کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اسے درج ذیل مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے:
فوجی اہلکاروں اور سامان کی ترسیل
سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز
میڈیکل ایویکویشن (زخمیوں کی منتقلی)
عمومی عسکری مشنز

دفاعی ماہرین کے مطابق اس معاہدے سے سعودی عرب کو نہ صرف جدید ہیلی کاپٹر پلیٹ فارم تک رسائی ملے گی بلکہ مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ کی بدولت روزگار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ میں دفاعی صنعت کے بدلتے منظرنامے کی عکاسی کرتی ہے، جہاں علاقائی طاقتیں اب صرف خریدار نہیں بلکہ شراکت دار اور مقامی صنعت کار کے طور پر ابھر رہی ہیں۔



