تازہ ترین

ایران کے خلیجی حملے امریکہ کو جنگ روکنے پر مجبور نہیں کریں گے، ترکی کا مؤقف

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ترکی کے وزیر خارجہ حقان فیدان نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک پر ایران کے حملوں سے امریکہ کو جنگ روکنے پر مجبور ہونے کا امکان کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران بظاہر خلیجی توانائی تنصیبات اور اہم مقامات کو نشانہ بنا کر خطے میں دباؤ بڑھانا چاہتا ہے تاکہ امریکہ اور اس کے اتحادی جنگ ختم کرنے پر مجبور ہو جائیں، تاہم موجودہ حالات میں ایسا ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو میں حقان فیدان نے بتایا کہ ترکی نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کیں اور دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کے لیے مختلف تجاویز بھی پیش کیں۔ ان کے مطابق انقرہ کی کوششوں کے باعث جنگ کے آغاز میں کچھ تاخیر ضرور ہوئی، لیکن بالآخر امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی۔

ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں توانائی تنصیبات اور دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنانے کا مقصد تنازع کو علاقائی سطح پر پھیلانا اور عالمی برادری کو اس کے ممکنہ اثرات سے آگاہ کرنا ہے۔ تاہم ان کے مطابق اس حکمت عملی سے واشنگٹن کی پالیسی تبدیل ہونے کا امکان کم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ممکنہ طور پر اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ ایران مستقبل میں خطے کے لیے عسکری خطرہ نہ بن سکے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے ایران کی میزائل صلاحیت اور دیگر فوجی ڈھانچے کو کمزور کرنا ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

حقان فیدان نے یہ بھی کہا کہ ایران ایک وسیع جغرافیائی ملک ہے جہاں میزائل اور عسکری تنصیبات مختلف مقامات پر پھیلی ہوئی ہیں، اس لیے انہیں مکمل طور پر غیر فعال کرنے کے لیے وقت اور مسلسل فوجی کارروائیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ترکی کے لیے ایک اہم تشویش ممکنہ پناہ گزینوں کی لہر بھی ہے۔ فیدان کے مطابق فی الحال ترکی کو ایران سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے آثار نظر نہیں آ رہے، کیونکہ ایران اس وقت اپنی سرحدوں کے ذریعے شہریوں کے باہر جانے کو محدود کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہیں گی، تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ دونوں فریق اپنے اہداف کے حصول تک فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے اشارے دے رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button