تازہ ترینترکی

ترک فوج غزہ جانے کو تیار! طیب اردوان کا اسرائیل کو بڑا سرپرائز

واشنگٹن میں منعقدہ “پیس کونسل” اجلاس کے بعد ترکی کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے کہا ہے کہ اگر متعلقہ فریقین متفق ہوں تو انقرہ غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس کے تحت فوج بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی انسانی امداد سے لے کر سکیورٹی اور انتظامی ڈھانچے کی بحالی تک ہر سطح پر تعاون فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

فیدان نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ غزہ کی تعمیرِ نو کا عمل شروع ہو چکا ہے اور اس دوران مقامی انتظامی اداروں کو فعال اور مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے ابتدائی بجٹ اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے، اور حالیہ اجلاس اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے عالمی استحکام فورس میں شمولیت کا عزم موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی نہ صرف انسانی امداد بھیج رہا ہے بلکہ غزہ میں مقامی پولیس فورس کی تشکیل اور تربیت میں بھی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ان کے بقول، ترکی اس نئی پولیس فورس کی تربیت کی ذمہ داری لینے کا وعدہ کر چکا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں ترکی غزہ بھیجنے کے لیے 20 ہزار رہائشی کنٹینرز پر غور کر رہا ہے تاکہ بے گھر افراد کو فوری پناہ فراہم کی جا سکے۔ فیدان کے مطابق امدادی سامان سے لدا ایک جہاز بھی روانہ کیا جا چکا ہے، جبکہ رفح کراسنگ کھلنے کے بعد امدادی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے “پیس کونسل” کے پہلے اجلاس میں غزہ کے لیے اربوں ڈالر کی مالی امداد کا اعلان کیا۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق غزہ میں حالیہ جنگ کے بعد تعمیر نو کے اخراجات درجنوں ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ بنیادی ڈھانچے کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکی کی ممکنہ فوجی شمولیت خطے کی سفارتی و عسکری صورتِ حال پر اہم اثر ڈال سکتی ہے۔ تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ غزہ میں سکیورٹی کے نئے انتظامات، حماس کے مستقبل اور اسرائیل سمیت دیگر فریقین کے تحفظات کو کس حد تک حل کیا جاتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button