تازہ ترینترکی

ترکی کی سفارتی کوششیں تیز، خلیجی ممالک کو ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے روکنے کی کوشش

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ترکی نے سفارتی سطح پر سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور خلیجی عرب ممالک کو ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں شامل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق انقرہ اس وقت خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ترکی نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت اہم خلیجی ممالک سے رابطے کیے ہیں اور انہیں تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ترکی کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے حالیہ دنوں میں ان ممالک کے دورے کیے اور دیگر علاقائی رہنماؤں سے بھی ٹیلی فونک رابطے کیے ہیں۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ترکی اس بات سے شدید خدشات رکھتا ہے کہ اگر خلیجی ممالک اس جنگ میں براہِ راست شامل ہو گئے تو تنازع ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی مرتب ہوں گے۔

ترکی کی قیادت کا مؤقف ہے کہ موجودہ صورتحال کو مزید بگاڑنے کے بجائے سفارتی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ صدر رجب طیب اردوان نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے کو ایک طویل اور تباہ کن جنگ سے بچانا ضروری ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ترکی خود کو ایک اہم ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ نہ صرف خطے میں امن قائم رکھا جا سکے بلکہ اپنی علاقائی اہمیت بھی برقرار رکھی جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکی کی یہ حکمت عملی اس کے وسیع تر خارجہ پالیسی اہداف کا حصہ ہے۔

دوسری جانب خلیجی ممالک بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور کسی بڑے فیصلے سے قبل حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششیں اور مذاکرات ہی کشیدگی کم کرنے کا واحد راستہ سمجھے جا رہے ہیں۔

موجودہ حالات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں ایک چھوٹا سا قدم بھی بڑے علاقائی تصادم کا سبب بن سکتا ہے، اور اسی لیے ترکی سمیت دیگر ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم نظر آ رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button