
ایران نے پہلی بار کھل کر تسلیم کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات کے دوران غیر رسمی اور مختصر ملاقاتیں ممکن ہیں، جن میں فریقین کے درمیان مصافحہ بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی صورت میں یورینیم افزودگی سے دستبردار نہیں ہوا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پیر کے روز ایرانی پارلیمنٹ کا ایک بند کمرہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے شرکت کی۔ اجلاس میں امریکا کے ساتھ مذاکرات اور خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے پس منظر پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اراکینِ پارلیمنٹ کو بتایا گیا کہ امریکا کے ساتھ بات چیت بالواسطہ انداز میں جاری رہے گی، تاہم مذاکراتی ٹیموں کے درمیان چند منٹ کی غیر رسمی ملاقاتیں ہو سکتی ہیں، جن میں مصافحہ اور ریڈ لائنز پر محدود ہم آہنگی شامل ہو سکتی ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق عراقچی اور موسوی کی مشترکہ شرکت کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ ایران کی سفارتکاری اور دفاعی تیاری ایک ہی حکمتِ عملی کے دو پہلو ہیں۔
ایرانی حکام نے واضح کیا کہ یورینیم افزودگی صفر کرنے کا مطالبہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ان کے بقول افزودگی ایران کا مسلمہ حق ہے جو آئندہ نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ اسی دوران ایران کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے سخت لہجے میں کہا کہ ایران اپنے دشمنوں کی کسی بھی غلطی کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور حالیہ عرصے میں نئے دفاعی سازوسامان کو بھی متعارف کرایا گیا ہے، تاہم اس کی تفصیلات سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کی گئیں۔

ادھر امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے باوجود کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تہران میں سخت پیغامات بھی سامنے آئے ہیں۔ فلسطین اسکوائر پر نصب ایک بڑے بل بورڈ میں اسرائیل کا نقشہ دکھا کر ’’میزائلوں کی بارش‘‘ کا پیغام دیا گیا۔ عباس عراقچی نے بھی کہا ہے کہ اگر جوہری پروگرام ترک کرنے کی قیمت جنگ ہے تو ایران اس کے لیے بھی تیار ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں مسقط میں ہوئے، جہاں امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو ایرانی وفد کے ساتھ غیر رسمی مصافحے کرتے دیکھا گیا۔ اگرچہ ان بات چیت میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی، تاہم فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ آئندہ مرحلے میں ایران کو محض وقت حاصل کرنے کے بجائے ٹھوس تجاویز پیش کرنا ہوں گی۔
اسرائیلی تجزیہ کاروں کے مطابق کسی ممکنہ امریکی-ایرانی معاہدے سے اسرائیل کی ایران کے خلاف آزادانہ کارروائی کی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔ اسی تناظر میں وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو متوقع طور پر واشنگٹن میں امریکی قیادت کو ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے خطرات سے آگاہ کریں گے اور یہ مؤقف اختیار کریں گے کہ ایران کی موجودہ کمزور پوزیشن خطے میں طاقت کے توازن کو بدلنے کا نادر موقع ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مذاکراتی فضا میں نرمی کے اشارے مل رہے ہیں، لیکن دونوں جانب سخت بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری تنازع ابھی مکمل طور پر حل ہونے سے خاصا دور ہے۔



