دو بڑے بحری راستے خطرے میں، دنیا کو تیل کی قلت کا خدشہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی توانائی سپلائی ایک سنگین بحران کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد اب باب المندب بھی خطرے کی زد میں آ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ اہم بحری راستہ بھی متاثر ہوتا ہے تو دنیا کو تیل کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تیل کی ترسیل کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس سے روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہوئی۔ اگرچہ کچھ متبادل راستوں کے ذریعے اس کمی کا جزوی ازالہ کیا جا رہا ہے، تاہم اب بھی عالمی مارکیٹ کو روزانہ تقریباً 13 ملین بیرل تیل کی کمی کا سامنا ہے۔
اسی دوران بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان واقع باب المندب کی اہمیت بڑھ گئی ہے، جو عالمی تیل تجارت کا تقریباً 5 فیصد راستہ فراہم کرتا ہے۔ لیکن یمن میں سرگرم حوثی گروپ کی جانب سے حالیہ حملوں نے اس گزرگاہ کو بھی غیر محفوظ بنا دیا ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق اگر باب المندب کے ذریعے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو تیل کی قیمتوں میں فی بیرل 20 ڈالر تک اضافہ ہو سکتا ہے، جو عالمی معیشت پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

متبادل راستوں کے طور پر سعودی عرب کی مشرق-مغرب پائپ لائن اور متحدہ عرب امارات کی فجیرہ ٹرمینل سے سپلائی بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم یہ راستے بھی محدود صلاحیت رکھتے ہیں اور مکمل طور پر آبنائے ہرمز کا متبادل فراہم نہیں کر سکتے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی یانبو بندرگاہ سے تیل کی ترسیل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ فجیرہ کے راستے بھی سپلائی بڑھائی گئی ہے۔ اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان راستوں کو بھی کسی حملے یا سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہوا تو خلیج سے تیل کی ترسیل تقریباً ناممکن ہو جائے گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں دنیا کے پاس کوئی مکمل متبادل پلان موجود نہیں، اور توانائی کی سپلائی چند محدود راستوں پر انحصار کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا ہر نیا مرحلہ عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو رہا ہے۔
دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع، جس میں دونوں اطراف سے میزائل اور ڈرون حملے ہو رہے ہیں، نے خطے کی سیکیورٹی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔ اس صورتحال میں نہ صرف تیل بلکہ عالمی تجارتی راستے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر باب المندب بھی مکمل طور پر غیر محفوظ ہو گیا تو عالمی توانائی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کریں گے۔



