امریکا کا چین پر خفیہ ایٹمی تجربات کا الزام، بیجنگ کی سخت تردید

امریکا نے چین پر خفیہ طور پر ایٹمی دھماکوں کے تجربات کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے، جسے بیجنگ نے یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے “بے بنیاد اور من گھڑت دعوے” قرار دیا ہے۔ یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر ایٹمی اسلحہ کنٹرول کے نظام پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور بڑی طاقتوں کے درمیان اعتماد کا فقدان نمایاں ہو رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، اسلحہ کنٹرول کے لیے امریکی خصوصی نمائندے رچرڈ جانسن نے جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی کانفرنس برائے تخفیفِ اسلحہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین نے کم شدت والے ایٹمی تجربات کیے، جن میں ایک مبینہ تجربہ جون 2020 میں ہوا۔ ان کے بقول چینی فوج نے ایسے طریقے اپنائے جن سے ایٹمی دھماکوں کے جھٹکوں کو کم ظاہر کیا جا سکے، تاکہ عالمی زلزلہ پیما نظام ان تجربات کا سراغ نہ لگا سکے۔ اس تکنیک کو ماہرین “ڈی کپلنگ” (Decoupling) کے نام سے جانتے ہیں۔

رچرڈ جانسن نے دعویٰ کیا کہ یہ تجربات اگرچہ محدود نوعیت کے تھے، تاہم ان کی طاقت سینکڑوں ٹن دھماکہ خیز مواد کے برابر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی اندازوں کے مطابق چین کے پاس اس وقت تقریباً 600 ایٹمی وار ہیڈز ہیں، اور اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2030 تک یہ تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ پیش رفت خطے اور عالمی سلامتی کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہے۔
دوسری جانب چین نے امریکی الزامات کو دو ٹوک الفاظ میں رد کر دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں تخفیفِ اسلحہ کے لیے چین کے سفیر لی سونگ نے کہا کہ امریکا “جھوٹے بیانیے” گھڑ رہا ہے اور اس طرح کے الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین ایٹمی تجربات پر پابندی کے اپنے وعدے پر قائم ہے اور ایٹمی امور میں “ذمہ داری اور دانشمندی” سے کام لے رہا ہے۔
چینی سفیر نے الٹا امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ اسلحے کی نئی دوڑ کو ہوا دینے کا ذمہ دار ہے۔ ان کے مطابق بیجنگ نہ تو امریکا اور روس کے ساتھ کسی سہ فریقی ایٹمی تخفیفِ اسلحہ مذاکرات میں شامل ہوگا اور نہ ہی خود کو ایسی ذمہ داریوں کا پابند سمجھے گا، کیونکہ چین کی ایٹمی صلاحیت ان دونوں طاقتوں کے برابر نہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ بیانات اس بات کی علامت ہیں کہ ایٹمی اسلحے کے کنٹرول سے متعلق عالمی فریم ورک کمزور پڑ رہا ہے۔ سرد جنگ کے بعد بننے والے معاہدے پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ نئی طاقتوں کی عسکری پیش رفت نے عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بڑے ممالک کے درمیان شفافیت اور مکالمہ نہ بڑھا تو ایٹمی عدم پھیلاؤ کا عالمی نظام مزید خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔
یہ تنازع ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ عالمی سلامتی صرف بیانات سے نہیں بلکہ اعتماد، نگرانی اور مشترکہ ذمہ داری کے نظام سے ہی ممکن ہے، جس پر فی الحال سوالیہ نشان لگتا دکھائی دے رہا ہے۔



