
مقبوضہ مغربی کنارے کے شمال مشرقی علاقے طوباس میں سکیورٹی کارروائی کے دوران دو بچوں کی ہلاکت اور دیگر کے زخمی ہونے پر فلسطینی سکیورٹی فورسز نے گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق یہ کارروائی ایک ایسے شخص کی گرفتاری کے لیے کی گئی جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران مطلوب شخص کے بیٹے کی ہلاکت اور بیٹی کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ادارے نے کہا ہے کہ واقعے کی تمام تفصیلات کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے اور فوری طور پر جامع تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ نتائج مکمل ہونے کے بعد عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز شہریوں کے تحفظ اور قانون کے نفاذ کے لیے پرعزم ہیں، اور اگر کسی قسم کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب تحریک حماس نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز کو بچوں کی ہلاکت کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ حماس کے مطابق گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں مطلوب شخص اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ سفر کر رہا تھا۔ تنظیم نے اس واقعے کو “سنگین جرم” قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار عناصر کا احتساب کیا جائے۔
علاقے کے سماجی اور انسانی حقوق کے حلقوں نے بھی واقعے پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ماحول میں ایسے واقعات قومی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
طوباس اور اطراف کے علاقوں میں حالیہ مہینوں کے دوران سکیورٹی آپریشنز میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث عوامی بے چینی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق شفاف تحقیقات اور واضح مؤقف ہی موجودہ تناؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔



