
(تازہ حالات رپورٹ )
امریکا نے توانائی اور عسکری شعبے میں ایک نمایاں سنگِ میل عبور کرتے ہوئے پہلی مرتبہ ایک جدید چھوٹے جوہری ری ایکٹر کے ماڈیولز کو فضائی راستے سے منتقل کیا ہے۔ اس اقدام کو اسٹریٹجک نیوکلیئر تعیناتی کے نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
سی-17 طیاروں کے ذریعے منتقلی
اطلاعات کے مطابق امریکی فضائیہ کے C-17 Globemaster III کارگو طیاروں نے آٹھ نیوکلیئر ماڈیولز کو کیلیفورنیا کے مارچ ایئر ریزرو بیس سے یوٹاہ کے ہِل ایئر فورس بیس تک منتقل کیا۔ یہ ری ایکٹر جدید توانائی اسٹارٹ اپ کمپنی کی تیار کردہ اگلی نسل کی “منی ایچر” ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔
یہ کارروائی امریکی محکمہ دفاع اور محکمہ توانائی کے مشترکہ پروگرام کے تحت کی گئی، جس کا مقصد ایسے چھوٹے ری ایکٹرز کو تیزی سے تعینات کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔

چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹر (SMR) کیا ہیں؟
چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (SMRs) روایتی بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹس کے مقابلے میں کم حجم، زیادہ لچکدار اور نسبتاً محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں فیکٹری میں تیار کر کے ضرورت کے مطابق مختلف مقامات پر نصب کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ری ایکٹرز:
دور دراز فوجی اڈوں کو مستقل توانائی فراہم کر سکتے ہیں
قدرتی آفات کے بعد ہنگامی بجلی بحال کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں
روایتی ایندھن پر انحصار کم کر سکتے ہیں

اسٹریٹجک اہمیت
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہوائی جہاز کے ذریعے نیوکلیئر ری ایکٹر کی منتقلی اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکا مستقبل میں عالمی سطح پر بھی تیزی سے توانائی تنصیبات قائم کرنے کی صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔
یہ پیش رفت خاص طور پر ان علاقوں میں اہم سمجھی جا رہی ہے جہاں توانائی کا بنیادی ڈھانچہ کمزور ہے یا جہاں فوجی موجودگی کو خود کفیل بنانا مقصود ہو۔

حفاظتی اور پالیسی سوالات
اگرچہ حکام نے اس ٹیکنالوجی کو محفوظ اور جدید قرار دیا ہے، تاہم ناقدین نے ممکنہ حفاظتی خطرات، ماحولیاتی اثرات اور عسکری استعمال کے امکانات پر سوالات اٹھائے ہیں۔
آگے کیا؟
ماہرین کے مطابق اگلا مرحلہ ان ماڈیولز کی مکمل جانچ اور عملی آزمائش ہوگا۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو چھوٹے جوہری ری ایکٹر مستقبل میں عالمی توانائی پالیسی اور عسکری حکمت عملی دونوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔



