
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ): ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان دفاعی تعاون سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی افواج اس امکان پر بات چیت کر رہی ہیں کہ جنوبی کوریا میں تعینات امریکی پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کے کچھ یونٹس کو مشرقِ وسطیٰ منتقل کیا جا سکتا ہے۔
پارلیمنٹ میں بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کے موبائل میزائل دفاعی نظام کے بعض حصے ملک کے مختلف مقامات سے اوسان ایئر بیس منتقل کیے گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس بات کی تصدیق نہیں کی جا سکتی کہ یہ نظام جلد ایران کے خلاف جاری جنگ میں استعمال کے لیے مشرقِ وسطیٰ بھیجے جائیں گے یا نہیں۔

جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ کے مطابق اب تک واشنگٹن نے سیول سے براہِ راست کسی اضافی فوجی مدد کی درخواست نہیں کی۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں اگر کسی ملک کی جانب سے تعاون کی پیشکش کی گئی تو امریکہ اسے قبول کر سکتا ہے۔
امریکی افواج کوریا (USFK) نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر فوجی صلاحیتوں یا ہتھیاروں کی نقل و حرکت کے بارے میں تفصیلات عام نہیں کی جاتیں۔
رپورٹس کے مطابق اوسـان ایئر بیس پر حالیہ دنوں میں امریکی بھاری فوجی کارگو طیارے دیکھے گئے ہیں جو ممکنہ طور پر پیٹریاٹ میزائل سسٹم کو مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنے کی تیاری کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ نظام بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جنگی علاقوں میں فضائی دفاع کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

اس وقت جنوبی کوریا میں تقریباً 28 ہزار 500 امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں، جن کا بنیادی مقصد شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل خطرات کے خلاف مشترکہ دفاع کو یقینی بنانا ہے۔ اگر پیٹریاٹ نظام کے کچھ یونٹس مشرقِ وسطیٰ منتقل کیے جاتے ہیں تو اس کا مقصد ایران کے میزائل حملوں سے امریکی اور اتحادی تنصیبات کو محفوظ بنانا ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی مہم کے دوران امریکہ اپنے دفاعی نظام کو مختلف خطوں میں دوبارہ ترتیب دے رہا ہے تاکہ ممکنہ میزائل حملوں کے خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔



