ایرانترکیمشرق وسطی

امریکا اور سعودی عرب کے درمیان بڑا دفاعی معاہدہ، ایف-15 طیاروں کے لیے 3 ارب ڈالر کے سازوسامان کی منظوری

امریکا اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو ایف-15 جنگی طیاروں کے لیے امدادی سامان اور آلات کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے، جس کی مجموعی مالیت تقریباً 3 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ یہ خبر بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے دی ہے۔

یہ منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے، خاص طور پر معاشی اور دفاعی شعبوں میں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قدم مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور خطے کی بدلتی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں دونوں اتحادیوں کے درمیان اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے وائٹ ہاؤس دورے کے دوران جدید ایف-35 جنگی طیارے سعودی عرب کو فروخت کرنے کے عزم کا بھی اظہار کر چکے ہیں۔ اوول آفس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ سعودی عرب امریکا کا قریبی اتحادی ہے اور خطے میں سکیورٹی کے معاملات میں واشنگٹن کا ساتھ دیتا رہا ہے۔

تاہم امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ ایف-35 طیاروں کی ممکنہ فروخت کا عمل طویل اور پیچیدہ ہے۔ اگرچہ صدر کی منظوری ایک اہم مرحلہ ہے، لیکن اس کے بعد امریکی کانگریس اور پینٹاگون کی باقاعدہ منظوری درکار ہوگی۔ اس کے علاوہ ایف-35 پروگرام کے تحت تکنیکی، سکیورٹی اور انتظامی شرائط کی ایک طویل فہرست پر پورا اترنا بھی ضروری ہوگا۔ ماضی میں متحدہ عرب امارات نے بھی ایف-35 طیارے خریدنے کی کوشش کی تھی، مگر تمام تقاضے پورے نہ ہونے کے باعث یہ معاہدہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں اور سعودی عرب خطے میں کسی ممکنہ جنگ کے اثرات کے حوالے سے محتاط نظر آتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ریاض نے واضح کیا تھا کہ وہ اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف کسی ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔ اسی طرح سعودی مؤقف کی تائید میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی ملتا جلتا بیان سامنے آ چکا ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک رابطے میں بھی اس بات پر زور دیا کہ مملکت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی حامی ہے اور اپنی سرزمین سے ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دے گی۔

ماہرین کے مطابق ایف-15 طیاروں سے متعلق یہ معاہدہ فوری طور پر سعودی فضائی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ ایف-35 سے متعلق مستقبل کے فیصلے خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ امریکا اور سعودی عرب دفاعی شراکت داری کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرنا چاہتے ہیں، تاہم علاقائی سیاست اور عالمی سفارتکاری اس عمل کی رفتار کا تعین کرے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button